کاشتکار گندم کی کاشت بروقت مکمل کریں ،ڈویژنل ڈائریکٹرمحکمہ زراعت

بدھ 12 نومبر 2025 16:03

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 نومبر2025ء) ڈویژنل ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمودنے کاشتکاروں سے کہا کہ گندم کی کاشت بروقت مکمل کی جائے اور وہ مقررہ شرح بیج فی ایکڑ استعمال کریں تاکہ نمی کے باوجود پورااگاؤ حاصل ہوسکے جبکہ فصل کی کاشت کیلئے زمین کی ہمواری بذریعہ لیزر ٹیکنالوجی کریں تاکہ پانی کی بچت ہو اور دھان کے علاقوں میں گندم کاشت کرنے کیلئے زیروٹیلج ڈرل کا استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار کپاس کے علاقوں میں کھڑی کپاس میں بھی گندم کاشت کرسکتے ہیں نیز وہ گندم کی فصل ڈرل کے ذریعے لائنوں میں کاشت کرنے کو ترجیح دیں جبکہ چھٹہ کاشت کی صورت میں کھیت میں کھیلیاں بنائی جائیں تاکہ کم وقت میں زیادہ رقبہ سیراب ہو۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل کو صرف نازک مراحل میں ہی سیراب کیا جائے نیز اگر تین پانی دستیاب ہوں تو پہلا پانی جھاڑبناتے وقت20 سے 25دن بعد از کاشت،دوسرا پانی گوبھ کی حالت میں یعنی کاشت کے 80سے 90دن بعد اورتیسرا پانی دودھیاہونے پر 125سے 130دن بعداز کاشت لگایا جائے۔

ڈائریکٹر زراعت نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کے کنٹرول پر مکمل توجہ دیں، نائٹروجن،فاسفورس اورپوٹاش والی کھادوں کا تناسب ومتوازن استعمال یقینی بنائیں اسی طرح زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کو کم سے کم رقبہ پر کاشت کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ خشک چارہ جات کو زیادہ سے زیادہ سٹور کیاجائے تاکہ خشک سالی کے دوران تازہ چارہ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں متبادل بندوبست ہو۔

انہوں نے کہا کہ باغات،سبزیوں کو ڈرپ،سپرنکلر کے ذریعے آبپاشی کرکے پانی کی بچت کریں اوربارش کے پانی کو تالابوں میں ذخیرہ کیاجائے تاکہ ربیع کی فصلوں کو نازک مراحل پر آبپاشی یقینی بنائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ جہاں کسی وجہ سے 20نومبر تک گندم کی کاشت نہ کی جاسکے وہاں کپاس کی کھڑی فصل میں گندم کی براہ راست کاشت یا کپاس و دھان کے مڈھوں میں زیرو ٹیلج یا کولٹر ٹائپ سٹبل ڈرل کے ذریعے گندم کی کاشت میں تاخیر پر قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ 20نومبر کے بعد کاشت کی گئی فصل میں ہر روز تقریباََ ایک فیصد کے حساب سے15سے20کلوگرام فی ایکڑتک پیداوار میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کاشتکار گندم کی فصل کی کاشت جلد از جلد مکمل کرلیں۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار گندم کی منظور شدہ ترقی دادہ اقسام سفارش کردہ وقت کے مطابق کاشت کریں نیز بیج کے اگاؤ کی شرح 85 فیصد سے کم نہ ہو بصورت دیگر شرح بیج میں اضافہ کر لیاجائے۔انہوں نے بتایا کہ پچھیتی کاشت کی صورت میں شرح بیج میں اضافہ اسلئے ضروری ہے کہ درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے بیج کے اگاؤ میں تا خیر ہو جاتی ہے جس سے پودا شگوفے کم بناتاہے اور سٹے چھوٹے رہ جاتے ہیں جبکہ پیداوارمیں بنیادی شاخوں کا حصہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا بیج کی مقدار ایک حد تک بڑھانے سے بنیادی شاخوں میں اضافہ ہو گا جو پیداوار میں اضافے کا سبب بنے گا۔