نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجن کی کمی کا شکار ہے،زرعی ماہرین

حکومت زراعت کی بہتری کے لیے کھادوں اور مشینری پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے، ڈاکٹر خالد ، عامر مقصود

ہفتہ 28 مارچ 2026 14:02

نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجن کی کمی کا شکار ہے،زرعی ماہرین
مکو آ نہ/فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 مارچ2026ء) زرعی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجن کی کمی کا شکار ہے، جبکہ کٹائی کے بعد ہونے والے (پوسٹ ہارویسٹ)پندرہ سے بیس فیصد نقصانات کسانوں پر مالی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ جس سے نبرد آزما ہونے کیلئے کسان ماہرین کی سفارشات کو اپنائیں ان خیالات کا اظہار جامعہ زرعیہ فیصل آباد، محکمہ زراعت توسیع پنجاب، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ اور فاطمہ گروپ کے اشتراک سے موضع کھائی میں محمد عظیم ترانہ کے فارم پر منعقدہ ''فارمنگ ڈی'' کے موقع پر کیا گیا۔

ریجنل ایگریکلچر فورم (وسطی پنجاب) کے تحت منعقدہ اس تقریب میں سات یونین کونسلوں اور انیس دیہات کے کسانوں نے شرکت کی۔وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا کہ مذ کورہ فورم کے تحت تمام شراکت داروں کے باہمی تعاون سے زرعی مسائل کا حل اورجدید ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں تک پہنچا نے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ زراعت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے حکومت کے زرعی ترقیاتی اقدامات کو سراہا۔ ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ کھادوں کا غیر متناسب استعمال نہ صرف لاگت بڑھا رہا ہے بلکہ پیداواری صلاحیت کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ جدید مشینری، بیج کی نئی اقسام اور پانی کے بہتر استعمال کے حوالے سے ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں۔

چیف سائنٹسٹ گندم (ایوب ریسرچ) ڈاکٹر جاوید احمد نے گندم کے کاشتکاروں کو کٹائی کے بعد کے نقصانات کم کرنے کے لیے جدید تکنیک اپنانے کا مشورہ دیا، جبکہ ڈائریکٹر توسیع ڈاکٹر خالد محمود نے بتایا کہ حکومت زراعت کی بہتری کے لیے کھادوں اور مشینری پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ ڈاکٹر عامر مقصود نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی نے 'یو اے فرٹیلائزر' ایپ تیار کی ہے جو تحصیل اور فصل کی بنیاد پر کھادوں کی سفارشات فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ نائٹروجن اور فاسفورس کی کمی سے پیداوار میں پنتیس فیصد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ڈاکٹر محمد صابر نے خبردار کیا کہ زمین کی گرتی ہوئی صحت غذائی عدم تحفظ کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے مٹی کا تجزیہ کروانا ضروری ہے۔ فاطمہ گروپ کے ڈپٹی منیجر محمد عمران نے بتایا کہ کھاد کی کمی پیداوار کمی کا سبب بن رہی ہے۔ ڈاکٹر بابر شہباز نے اکیڈمیہ، ریسرچ اور انڈسٹری کے مشترکہ عزم کو دہرایا۔

شوگر کین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر اخلاق مدثر نے منظور شدہ اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کاشت کرنے پر زور دیا، جبکہ امانت علی (فاطمہ گروپ) نے نشاندہی کی کہ ہماری مٹی کی پی ایچ زیادہ ہے جس کے حل کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔ تقریب میں ڈاکٹر محمد کاشف، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر رضوانہ مقبول اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر توسیع ڈاکٹر خالد پرویز نے بھی شرکت کی۔