سیڈ کم فرٹیلائزر بینڈ پلیسمنٹ ڈرل کے ذریعے کھادکے کم استعمال سے گندم کی پیداوارمیں 9فیصد تک اضافہ کیاجاسکتاہے،عدیل احمد

جمعرات 13 نومبر 2025 13:28

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 نومبر2025ء) فاسفورس کی کمی کاشکار زمینوں کی ذرخیزی میں اضافہ کیلئے گندم میں استعمال ہونے والی ڈی اے پی کھاد کی مقدار 5 لاکھ 50ہزار ٹن سالانہ سے بھی تجاوز کر گئی ہے جبکہ مذکورہ مہنگی کھاد کی درآمد پرجہاں کثیر زرمبادلہ خرچ کرناپڑ تاہے وہیں کاشتکاروں کو بھی اضافی بھاری مالی بوجھ کاسامنا ہے کیونکہ فاسفورس کی کمی کاشکار زمینوں کی ذرخیزی میں اضافہ کیلئے ڈی اے پی کھاد کے استعمال کی شرح بتدریج بڑھتی جا رہی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع عدیل احمدنے بتایاکہ موجودہ طریقہ کارکے مطابق یہ کھاد زمین تیار کرنے کے بعد گندم کی بوائی سے بذریعہ چھٹہ استعمال کی جاتی ہے جس کے 2نقصان دہ پہلو بھی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ہرممکن کوشش کے باوجود پورے کھیت میں کھاد کابالکل یکساں چھٹہ ناممکن ہے جبکہ کھاد زمین کے اوپر والی دو تین انچ تہہ میں رہتی ہے مگر پودے کی جڑاں زیادہ تر اس کی نچلی تہہ میں ہوتی ہیں جس کے باعث گندم کے پودے کھاد کی موجودگی سے پوری طرح مستفید نہیں ہو پاتے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایاکہ مارکیٹ میں عام سیڈ کم فرٹیلائزر موجودہیں وہ کھاد کو 5سم گہرائی اور 5سم دور نہیں رکھتی جو زیادہ پیداوار کے حصول میں مدد گار ثابت نہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ان حالات میں سیڈ کم فرٹیلائزر بینڈ پلیسمنٹ ڈرل کے ذریعے کھادکے کم استعمال سے گندم کی پیداوارمیں 9فیصد تک اضافہ کیاجاسکتاہے اور اضافی پیداوار کے علاوہ 50فیصد تک کھادکی بچت بھی ہو سکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :