گندم کی زیادہ پیداوار کیلئے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی ضروری ہے،محکمہ زراعت سیالکوٹ

ہفتہ 29 نومبر 2025 13:30

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 نومبر2025ء) اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے کہا ہے کہ گندم کی بہتر پیداوار کے لیے زمین کی مناسب تیاری، معیاری بیج کا انتخاب، متوازن کھاد کا استعمال، بروقت کاشت اور جڑی بوٹیوں کی موثر تلفی انتہائی ضروری ہے،جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی کے بغیر فی ایکڑ زیادہ پیداوار کا حصول ممکن نہیں۔

اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جڑی بوٹیاں گندم کے ساتھ خوراک، پانی اور ہوا میں حصہ دار بن کر پیداوار میں نمایاں کمی کا باعث بنتی ہیں، اور ایک اندازے کے مطابق جڑی بوٹیوں کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں 42 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کے بیجوں کی ملاوٹ سے پیداوار کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے جس سے کاشتکاروں کو مناسب نرخ نہیں مل پاتے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل میں عام طور پر دو اقسام کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔پہلی قسم چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں ہیں جن میں کرنڈ، باتھو، لیہہ، لیبلی، ریواڑی، سینجی، مینا، گاجر بوٹی، شاہترہ، بلی بوٹی، گیلیم مڑی اور جنگلی پالک شامل ہیں۔دوسری قسم نوکیلے پتوں والی گھاس نما جڑی بوٹیاں ہیں جن میں جنگلی جئی، دمبی سٹی اور پومڑی گھاس قابل ذکر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کا بہترین وقت وہ ہے جب ان کے 2 سے 3 پتے نکل آئیں۔ پہلی آبپاشی کے بعد وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلانا مفید ہے۔ اگر افرادی قوت میسر نہ ہو تو کاشتکار ماہرین کی ہدایت کے مطابق جڑی بوٹی مار زہر کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کے لیے پہلی آبپاشی کے بعد وتر حالت میں اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کے لیے دوسری آبپاشی کے بعد سپرے کیا جائے۔ سپرے کے لیے فلیٹ فین یا ٹی جیٹ نوزل استعمال کرنے اور فی ایکڑ 100 سے 120 لیٹر پانی رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوان :