فیصل آباد،گندم کے کاشتکاروں کوکمزور زمینوں میں پہلی آبپاشی کے ساتھ 2 بوری ڈی اے پی یا5پانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ ڈالنے کی ہدایت

بدھ 3 دسمبر 2025 17:11

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 دسمبر2025ء) ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکے ماہرین شعبہ ایگرانومی نے کاشتکاروں کو گندم کی بہتر فصل کے لئے کمزور زمینوں میں پہلی آبپاشی کے ساتھ 2 بوری ڈی اے پی یا5بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ بوائی کے وقت فاسفورسی کھادوں کا استعمال نہ کرنے کی صورت میں پہلی آبپاشی کے ساتھ کمزور زمینوں میں دو بوری ڈی اے پی یاپانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ، اوسط زرخیز زمین میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی یا چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ اور زرخیز زمین میں ایک بوری ڈی اے پی یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔

انہوں نے کہاکہ گندم کی بھرپور پیداوار کے لئے پہلی آبپاشی کے ساتھ ایک بوری یوریا یا پونے دوبوری امونیم نائٹریٹ فی ایکڑ بھی استعمال کی جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ اگرگندم کی پہلی آبپاشی کے وقت فصل میں نائٹروجنی کھاد استعمال نہ کی جائے تو اس سے فی ایکڑ پیداوارمتاثر ہونے کا احتمال بڑھ جاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ دور حاضر میں پانی کی ضرورت کے پیش نظر آبپاشی کی جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایک تو پانی کی بچت ہوتی ہے اور دوسری طرف گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ زرعی سائنسدانوں کے تجربات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ گندم کی نشوونما اور بڑھوتری کے لئے بروقت کاشت سے 18 سے 25 دن بعد فصل کو پہلے پانی کے ساتھ نائٹروجنی کھاد کے استعمال کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب پودا جھاڑ بناتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پہلی آبپاشی کے ساتھ فاسفورسی اور نائٹروجنی کھادوں کے استعمال سے مستقل جڑوں کی نشوونما ٹھیک ہوگی جس کی وجہ سے شگوفے زیادہ بنیں گے اور سٹوں کی تعدادزیادہ ہو جائے گی جس کا پیداوارپر مثبت اثر پڑے گا۔

متعلقہ عنوان :