گوبرکی کھاد نامیاتی مادے کا بہترین ذریعہ ہے جس میں مختلف بہترین خوراکی اجزاموجودہیں، عدیل احمد

پیر 8 دسمبر 2025 14:00

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 دسمبر2025ء) گوبر کی کھاد نامیاتی مادے کا بہترین ذریعہ ہے اور مختلف جانوروں کے فضلہ میں فصلوں کیلئے بہترین اور اچھی مقدار میں مختلف خوراکی اجزا موجود ہیں جن میں گائے و بیل کے گوبر میں 0.30فیصد نائٹروجن، 0.20فیصد فاسفورس، 0.40فیصد پوٹاشیم اور 22.00نامیاتی مادہ موجود ہے اسی طرح ان کے پیشاب میں 1.00فیصد نائٹروجن، معمولی فاسفورس، 1.40فیصد نامیاتی مادہ پایا جاتا ہے نیز بھیڑ بکریوں کے گوبر میں 0.75فیصد نائٹروجن، 0.50فیصد فاسفورس، 0.45فیصد پوٹاشیم اور 35.00فیصد نامیاتی مادہ پایا جاتا ہے جبکہ ان کے پیشاب میں 1.35فیصد نائٹروجن، 0.05فیصد فاسفورس، 2.00فیصد پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آبادعدیل احمدنے بتایاکہ مرغیوں کے فضلہ میں 1.50فیصد نائٹروجن، 1.00فیصد فاسفورس، 0.50فیصد پوٹاشیم اور 40.00فیصد نامیاتی مادہ پایا جاتا ہے لہٰذاکاشتکار زمینوں میں نامیاتی مادوں کی کم ہوتی ہوئی مقدار سے بچاؤ کیلئے گوبر کی کھاد کا زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنائیں تاکہ زرعی زمین کو کلی یا جزوی طور پر کلر وتھور سے متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ہماری زمینوں میں نامیاتی مادے کی مقدار 0.5فیصد یا اس سے بھی کم ہے جبکہ اچھے نتائج کیلئے نہایت ضروری ہے کہ اس کی مقدار 0.86فیصد سے لے کر 30فیصد یا اس سے زیادہ ہو۔انہوں نے کہاکہ سفید کلر والی زمین میں نمکیات عام طور پر سفید رنگ کی تہہ کی شکل میں زمین کی سطح پر نظر آتے ہیں اور اس زمین میں پانی و ہوا کی نفوذ پذیری متاثر نہیں ہوتی اور اس میں پانی جذب ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسی زمینوں میں گہرا ہل چلا کر نہری یا ٹیوب ویل کے اچھی قسم کے پانی سے تین چار بار گہری آبپاشی کی جائے تو نمکیات کافی حد تک نیچے چلے جاتے ہیں اور زمین کاشت کے قابل بن جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سبز کھاد کیلئے استعمال ہونے والی فصلات میں ویسے تو گوارہ، جنتر، برسیم، ارہر، مونگ، سن، سینجی یا شفتل شامل ہیں لیکن اس وقت برسیم اور سینجی یا شفتل کی کاشت کا موزوں وقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ دیہاتوں میں کاشتکار جانوروں کا روزانہ کا گوبر بچا کھچا چارہ جو کہ بطور سُک استعمال کرتے ہیں سطح زمین پر یا نیچی جگہوں پر تقریباً چھ جانوروں کا پیشاب گوبر کے ساتھ ڈھیر میں نہیں جاتا حالانکہ گوبر کے مقابلہ میں پیشاب میں نائٹروجن زیادہ ہوتی ہے اسلئے اگر پیشاب کو گوبر کے ساتھ جمع کیا جائے تو قیمتی غذائی عناصر ضائع ہوجاتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :