پوٹاشیم سلفیٹ، یوریا، سپر فاسفیٹ، امونیم نائٹریٹ سمیت دیگر کھادیں زمین کی ذرخیزی میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں،حافظ عدیل

منگل 9 دسمبر 2025 20:27

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 دسمبر2025ء) محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو زمین کی نوعیت کے مطابق محکمانہ مشاورت سے کھادوں کے متوازن استعمال کی ہدائت کی ہے اور کہاہے کہ زمیندار، کاشتکار، کسان شاندار پیداوار کے حصول اور غذائی اجناس کی بہتر فصل حاصل کر نے کیلئے محکمہ زراعت کے عملہ کی مشاورت کے ذریعے کیمیائی کھادوں کا متوازن استعمال یقینی بنائیں تاکہ زمینی ضروریات کو پوراکرتے ہوئے بمپر کراپ کا حصول ممکن ہو سکے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد حافظ عدیل احمدنے بتایاکہ مکئی،رایا، گندم سمیت دیگر فصلات کی کاشت اور اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے کاشتکاروں کو فصلات میں کھادوں کا استعمال زمین کی نوعیت کے مطابق محکمہ زراعت کے عملہ کی مشاورت سے کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کمزور زمین میں بوائی کے وقت 2بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا،1بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ، ڈیڑھ بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 5بوری سنگل سپر فاسفیٹ، اڑھائی بوری امونیم نائٹریٹ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 4بوری نائٹرو فاس، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ ڈالی جائے۔

انہوں نے مزید بتا یا کہ اوسط زرخیز زمینوں میں گندم کی بوائی کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 4بوری سنگل سپر فاسفیٹ، ایک بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ کااستعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ذرخیز زمینوں میں ایک بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ، پونی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ، سوا بوری امونیم نائٹریٹ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا دو بوری نائٹرو فاس، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈال کر بہترین پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ عنوان :