فصلوں کے دشمن کیڑوں تلفی سے کماد، چاول، مکئی، کپاس کی پیداوارمیں بہتری لائی جاسکتی ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر

منگل 16 دسمبر 2025 13:55

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 دسمبر2025ء) ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع عدیل احمد نے کہا ہے کہ مڈھوں کی تلفی کامقصد سنڈیوں اور فصلوں کے دشمن کیڑوں کو تلف کرکے کماد، چاول، مکئی، کپاس کی پیداوار میں بہتری لانا ہے کیونکہ فصل ختم ہونے پر سنڈیاں سردیوں کا موسم مُڈھوں میں گزارتی ہیں اسلئے اگر مُڈھوں کو تلف کردیں گے تو سنڈیاں خود بخود تلف ہوجائیں گی جس سے نئی کاشتہ فصلات مختلف نقصان رساں کیڑوں اور سنڈیوں کے حملے سے کافی حد تک محفوظ ہوجائیں گی۔

انہوں نے کہاکہ اس طرح ہمیں زہروں کے استعمال کرنے کی بہت کم ضرورت پیش آئے گی اور فی ایکڑ پیداوار بھی بڑھ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہمارے کھیتوں میں کماد، دھان، کپاس،مکئی اور چری کے مُڈھ موجود ہیں نیز کماد کے مُڈھوں میں تنے کی سنڈی،جڑ کی سنڈی اور گُرداس پور سنڈی سردیاں گزار تی ہیں اسلئے اگر ہم زمین سے برابرکی سطح پر کماد کی کٹائی کر یں گے توکافی حد تک مڈھوں میں موجود سنڈیاں تلف ہوجائیں گی جس کے بعد فصل کی کٹائی مکمل ہونے پر کھیتوں میں اچھی طرح سے روٹا ویٹر چلانے پر مُڈھ کھیتوں میں ہی کُترے جائیں گے اس طرح سے بچی ہوئی سنڈیاں بھی تلف ہوجائیں گی اور ہماری آنے والی فصل بھی سنڈیوں سے محفوظ رہے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ دھان،مکئی اور چری کے مُڈھوں میں بھی سنڈیاں سردیوں کا موسم گزارتی ہیں لہٰذا فصل کی کٹائی کے فوراًبعد کھیتوں میں روٹا ویٹر چلایا جائے جس کے بعد گندم یا کوئی اور فصل کا شت کی جائے یا خالی چھوڑ دیا جائے تاکہ فصل کی کٹائی کے بعد تمام مُڈھ تلف ہوجائیں۔انہوں نے کہاکہ کپاس کے مڈھوں کی تلفی بھی بہت ضروری ہے اسلئے آخری چنائی مکمل ہونے پر کھیتوں میں بھیڑ بکریاں چرائی جائیں تاکہ وہ بچے ہوئے پتے اور ٹینڈے کھالیں کیونکہ گلابی سنڈی کی پرورش ڈوڈیوں کے اندر ڈبل بیج میں ہوتی ہے اور گلابی سنڈی سردیاں بھی ڈبل سیڈ میں گزارتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ڈوڈیوں کے خاتمے سے ہماری اگلی فصل بھی گلابی سنڈی کے حملے سے محفوظ رہے گی۔

متعلقہ عنوان :