فیصل آباد ، گندم کے کاشتکاروں کو کورا پڑنے کی متوقع راتوں میں فصل کی ہلکی آبپاشی کرنے کی ہدایت

پیر 29 دسمبر 2025 14:47

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 دسمبر2025ء) محکمہ زراعت توسیع فیصل آبادکے ڈویژنل ڈائریکٹرچوہدری خالد محمودنے کاشتکاروں کو گندم کو سخت سردی اور کورے سے محفوظ رکھنے کے لئے بروقت حفاظتی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گندم کی زیادہ اگیتی اور زیادہ پچھیتی کاشتہ فصل کو کورے کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کےلئے یوریا کی مناسب مقدار استعمال کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار کورا پڑنے کی متوقع راتوں میں فصل کی ہلکی آبپاشی کریں کیونکہ پانی لگانے کی صورت میں کھیت کا درجہ حرارت اچانک کم نہیں ہوتا اور پودوں میں کورے کے خلاف قوت مدافعت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اگر کاشتکار زمین کے وتر آنے پر فوری گوڈی کریں تو کھیت میں محفوظ نمی اوپر آنے سے کھیت کا درجہ حرارت کم نہیں ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ کور ا پڑنے کی متوقع راتوں میں گندم کے کھیتوں کے کنارے مختلف جگہوں پر اگر گڑھے کھود کر ان میں بھوسہ وغیرہ بھر دیں اور اسے آگ لگا کر اوپر کوئی چیزرکھ دیں تو اس سے نکلنے والے دھوئیں کے باعث فصل کورے سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ شدید کورے کی صورت میں کاشتکار 2کلوگرام یوریا فی ایکڑ 100لیٹر پانی میں ملا کر بھی سپرے کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر کاشتکار فصل کو نقصان سے بچائیں تو فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کو یقینی بنایا جا سکتاہے۔انہوں نے گندم کے کاشتکاروں، کسانوں اور زمینداروں کو ہدایت کی کہ وہ جڑی بوٹی مار زہروں کے سپرے کےلئے 100 سے 120 لیٹر پانی فی ایکڑ استعمال کریں اور سپرے اس وقت کیا جائے جب سورج پوری طرح چمک رہا ہو نیز شبنم کے اثرات نظر آنے پر فصل پر سپرے نہ کیا جائے کیونکہ اس سے سپرے کے اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپرے سے قبل مشین کو اچھی طرح صاف کر کے فلیٹ فین نوزل کے ذریعے سپرے کیا جائے اور خیال رکھا جائے کہ فصل کا کوئی حصہ سپرے سے رہ نہ جائے اور نہ ہی سپرے کے دوران فصل کے کسی حصے پر دو بار سپرے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تیز ہوا اوربارش کی صورت میں بھی سپرے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سپرے کے بعد گوڈی یا بار ہیرو کا بھی استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے سپرے کے دوران کاشتکاروں کو منہ پر ماسک لگانے اور ہاتھوں پر دستانے پہننے کی ہدایت کی تاکہ وہ زہروں کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ عنوان :