کاشتکاروں کو کماد کی بوائی کیلئے 3یا 4آنکھوں والے سموں کی کاشت کی ہدایت

جمعرات 1 جنوری 2026 15:45

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 جنوری2026ء) نظامت زرعی اطلاعات فیصل آباد کے ترجمان نے کاشتکاروں کوکماد کی بروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں فی ایکڑ 4 آنکھوں والے 13 سے15ہزار سمے یا3 آنکھوں والے 17 سے20 ہزار سمے ڈالنے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ تعداد تقریباً 100 تا120 من بیج سے حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اگر کاشت میں تاخیر ہوجائے یا زمین کی صحیح تیاری نہ ہو تو بیج کی مقدار میں 10سے15 فیصد اضافہ کردینا چاہیے۔

اسحاق لاشاری نے اے پی پی کو بتایا کہ کاشتکارکماد کی بہاریہ فصل کے لیے بیج اور شرح بیج، کماد کی بوائی گنے ہی سے کاٹے ہوئے تین یا چار آنکھوں والے ٹکڑوں (سموں) کے ذریعے کریں اور ہمیشہ صحت مند، بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا انتخاب کیا جائے نیز بیج بناتے وقت بیماراور کمزور گنے چھانٹ کر الگ نکال دینے چاہئیں خاص طورپر ایسے کھیت سے بیج ہرگز نہ رکھا جائے جس میں رتہ روگ کی بیماری موجود ہو۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں ہمیشہ یک سالہ فصل کا بیج منتخب کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے تاکہ بہتر پیداوار کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ بیج کے لیے گنے کا اوپر والا حصہ استعمال کیا جائے کیونکہ اس سے اگاؤ اچھا ہوگاتاہم گری ہوئی فصل کا بیج ہرگز استعمال نہ کیاجائے اور آنکھوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے علاوہ بیج کے لیے گنے کو درانتی یا پلچھی سے نہ چھیلا جائے بلکہ ہاتھوں سے کھوری اتار ی جائے۔ انہوں نے بتایاکہ سموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہونا چاہیے ورنہ اگاؤ کم ہوسکتاہے اور دیمک لگنے کا بھی خطرہ رہتاہے۔

متعلقہ عنوان :