چوڑے و نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں گندم کی فصل کیلئے نقصان دہ، کاشتکاروں کوکیمیائی زہروں کے استعمال کامشورہ

منگل 6 جنوری 2026 13:34

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 جنوری2026ء) چوڑے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں گندم کی فصل کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں اور چونکہ بعض مقامات پرچندایک کھیتوں میں جڑی بوٹیاں مشاہدے میں آرہی ہیں لہٰذا کاشتکاروں کومحکمانہ مشاورت سے کیمیائی زہروں کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی یقینی بنائی جاسکے۔

ڈایئریکٹر زراعت پلانٹ پروٹیکشن ذوالفقارغوری نے اے پی پی کو بتایاکہ گندم کی چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں میں باتھو، پوہلی، پیازی، جنگلی پالک، جنگلی مٹر، ھالوں، ریواڑی، سینجی، کرنڈ، شاہترہ، کاشنی، مینا، لیہلی، بلی بوٹی، پیازی، لیہہ اونٹ چرا اور درانک وغیرہ جبکہ باریک یا نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں میں دمبی سٹی، جنگلی جئی، جنگلی سوانک اور گھاس وغیرہ شامل ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایاکہ ان جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے سپرے کرتے وقت چند ایک احتیاطوں کو مد نظر رکھناضروری ہے مثلاًسپرے دھوپ میں اس وقت کی جائے جب اوس جزوی طور پر ختم ہو جائے تاہم ابر آلود موسم اور دھند میں زہرپاشی کا عمل موخر کر دیا جائے نیز چوڑے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کے لیے الگ الگ مخصوص زہروں کا سپرے کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کہیں اوور لیپنگ نہ ہو یعنی کوئی جگہ خالی نہ رہے اور نہ ہی کہیں دوہرا سپرے ہو۔

انہوں نے کہاکہ سپرے کے لیے مخصوص ٹی جیٹ نوزل یا فلیٹ فین پیتل کی نوزل استعمال کی جائے۔انہوں نے کہاکہ گندم کی فصل سے چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے بجائی کے 30سے 35 دن بعد جبکہ باریک یا نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے بجائی کے 45سے 50دن بعد زمین کی تروتر حالت میں مخصوص سفارش کردہ زہروں کا سپرے کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کے 3سے 5پتوں کے مرحلہ پر زہر سے انسداد آسان ہوتا ہے جبکہ سپرے کے لیے پانی 120لیٹر فی ایکڑ اور خشک وتر میں 150لیٹر فی ایکڑ تک استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سپرے کے کم از کم دس پندرہ دن تک کھیت کو پانی نہ لگایا جائے اورنہ ہی اس میں گوڈی کی جائے۔

متعلقہ عنوان :