کپاس کی اگیتی کاشت کے لئے سفارشات جاری کر دی گئیں

بدھ 18 فروری 2026 00:10

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 فروری2026ء) سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی )ملتان نے اگیتی کپاس کی کاشت کےلئے سفارشات جاری کر دیں ۔تفصیلات کے مطابق منگل کے روز یہاں سی سی آر آئی کی فارمرز ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا کپاس کی اگیتی کاشت کے حوالے سےپہلا اجلاس ڈائریکٹر صباحت حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل،ساجد محمود، ڈاکٹر محمد اکبر، ڈاکٹر رابعہ سعید،ڈاکٹر فرازنہ اکبر، میاں محمد اعظم اور ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹرنور محمد،جنید احمد ڈاہا اورسائنٹفک آفیسرزنے شرکت کی۔

اجلاس میں اگیتی کپاس کی کامیاب کاشت کےحوالے سے کاشتکاروں کے لیے پندرہ روزہ جامع سفارشات پیشکی گئیں۔اجلاس میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ کاشتکار کپاس کی بوائی سے پہلے اپنی زمین کا تجزیہ ضرور کرائیں اور تجزیاتی رپورٹ کی روشنی میں ہی متوازن کھادوں کا استعمال یقینی بنائیں۔

(جاری ہے)

ماہرین نے مشورہ دیا کہ کاشتکار خالی زمینوں یا آلو اور سرسوں کی کٹائی کے بعد فارغ ہونے والے رقبوں پر اگیتی کاشت کو ترجیح دیں، جبکہ پیاز اور خربوزہ کی کھڑی فصل میں بذریعہ ریلےکراپنگ( Relay Cropping) بھی ایک منافع بخش آپشن ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے مزید کہا ہے کہ اگیتی کاشت کے دوران پودوں کے پھیلاؤ اور جھاڑ بنانے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پودے سے پودے کا فاصلہ کم از کم ڈیڑھ فٹ رکھنا ضروری ہے۔زمین کی تیاری کے حوالے سے کاشتکا روں کو ہدایت کی گئی ہےکہ نچلی سخت تہہ توڑنے کے لیے چیزل ہل چلایا جائےتاکہ جڑیں گہرائی تک پھیل سکیں، پانی اور کھاد کی بچت اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے لیزر لینڈ لیولر کا لازمی استعمال کیا جائے،بارشوں کے بعد نکاسِ آب کی سہولت کے لیے کھیلوں پر کاشت کو ڈرل کے مقابلے میں ترجیح دی جائے اور کلراٹھی زمینوں میں بھی پٹڑیوں پر کاشت ہی موزوں رہتی ہے۔

ماہرین نے مزید کہا ہے کہ کمزور زمینوں کی زرخیزی میں بہتری کے لیے کاشتکار کم از کم پانچ ٹرالی گوبر فی ایکڑ ڈالیں یا سبز کھاد کے لیے لگائی گئی فصل کو بجائی سے 30 دن پہلے زمین میں دبا دیں۔بیج کے انتخاب اور معیار کے حوالے سے اجلاس میں سفارش کی گئی کہ کاشتکار صرف بااعتماد اداروں سے منظور شدہ اور صحت مند بیج خریدیں، جس میں ٹرپل جین (Triple Gene) اقسام کو اولیت دی جائے کیونکہ یہ گلابی سنڈی اورگلائِفو سیٹ کے خلاف بہتر مدافعت رکھتی ہیں۔

بجائی سے قبل بیج کی مکینیکل گریڈنگ مشین یا پیڈسٹل فین کے ذریعے صفائی کریں تاکہ ہلکا اور کمزور بیج الگ ہو جائے، نیز جرمینیشن (اگاؤ) کا ٹیسٹ لازمی کریں۔ اگیتی کپاس کی کھیلوں پر کاشت کے لیے 75 فیصد اگاؤ والا 6 تا 8 کلوگرام 'بر اترا ہوا' بیج فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔ فصل کو ابتدائی 40 دن تک رس چوسنے والے کیڑوں سے محفو ظ رکھنے کے لیے بیج کو امیڈا کلوپرڈ اور ٹیبوکونازول کے مکسچر (10 ملی لیٹر فی کلو بیج) سے زہر آلود کرنا (سیڈ ٹریٹمنٹ) ناگزیر ہے۔

کاشتکار بوائی کے وقت چوپہ ایک سے ڈیڑھ انچ کی گہرائی میں لگائیں اور ہر چوپہ میں بیج ڈال کر ہلکی مٹی سے ڈھانپ دیں، جبکہ کھیلوں پر پانی کی سطح بیج کے مقام سے ایک انچ نیچے رکھی جائے۔ جڑی بوٹیوں کے مؤثر تدارک کے لیے بجائی سے پہلے پینڈی میتھالین (1 لٹر) اور بجائی کے فوراً بعد وتر حالت میں ایس میٹاکلور (800 ملی لٹر) فی ایکڑ کا استعمال یقینی بنائیں۔

حفاظتی اقدامات کے تحت کاشتکا روں کو متنبہ کیا گیا کہ کپاس کی کاشت ایسی جگہوں پر نہ کریں جہاں بھنڈی یا بینگن کی فصلیں پہلے سے موجود ہوں۔ گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کے لیے کپاس کی چھڑیوں کو ہفتے میں دو بار الٹ پلٹ کرنا اور ڈھیروں کے نیچے موجود کچرے کو تلف کرنا انتہائی ضروری ہے۔فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ اجلاس یکم مارچ کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

متعلقہ عنوان :