آرگینک کاشتکار کلسٹر فارمنگ ماڈل اپنائیں، نجم مزاری

ہفتہ 21 فروری 2026 14:24

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 فروری2026ء) آرگینک خوراک اور مصنوعات کے تحقیقاتی نجی ادارہ کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ مربوط حکمت عملی سےآرگینک شعبہ نہ صرف برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ دیہی معیشت بھی فروغ پا سکتی ہے۔ ہفتہ کو جاری اپنے ایک بیان میں نجم مزاری نے کہا کہ ملک میں بیشتر آرگینک کاشتکار چھوٹے رقبوں پر کام کرتے ہیں جس کے باعث انفرادی سرٹیفکیشن مہنگی اور پیچیدہ ہو جاتی ہے، اس مسئلہ کا حل کلسٹر فارمنگ ماڈل میں پوشیدہ ہے جس کے تحت ایک ہی علاقے کے کاشتکار مشترکہ طور پر آرگینک پیداوار اور سرٹیفکیشن حاصل کریں، اس ماڈل سے سرٹیفکیشن کی لاگت میں کمی، معیاری نگرانی، اجتماعی برآمدی کنٹریکٹس کا امکان اور ٹریس ایبلٹی نظام کو بہتر بنایا جا سکے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ کے لئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کی طرز پر آرگینک مصنوعات کے لیے بھی مخصوص زون قائم کئے جائیں جہاں علیحدہ سٹوریج اور کولڈ چین سہولیات، کیمیکل سے پاک پراسیسنگ یونٹس، لیبارٹری ٹیسٹنگ مراکز، پیکجنگ اور لیبلنگ کی جدید سہولتیں میسر ہوں، اس اقدام سے امریکااور یورپ کی منڈیوں میں داخلہ کے امکانات روشن ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آرگینک سرٹیفکیشن، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور عالمی نمائشوں میں شرکت کے اخراجات چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کے لئے بڑا چیلنج ہیں، اس حوالہ سے حکومت آرگینک سرٹیفکیشن فیس پر سبسڈی، آرگینک برآمدات پر ابتدائی پانچ سال کے لئے ٹیکس ریلیف، سٹیٹ بینک کے ذریعہ کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی اور آرگینک پراسیسنگ مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے۔

نجم مزاری نے کہا کہ آرگینک خوراک اور مصنوعات کی برآمدات کے لئے عالمی نمائشوں اور تجارتی میلوں میں موثر شرکت ناگزیر ہے اور اس کے لئے عالمی سطح پر برانڈنگ کے بغیر آرگینک مصنوعات کی پہچان بھی ممکن نہیں۔ اس حوالہ سے ضروری ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ طور پر بین الاقوامی فوڈ ایکسپوز، تجارتی میلوں اور آرگینک نمائشوں میں شرکت کریں جس کے تحت اجتماعی قومی پویلین قائم کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ سرٹیفائیڈ آرگینک پروڈیوسرز کا قومی ڈیٹا بیس، سرکاری سطح پر آرگینک ایکسپورٹ پورٹل، بلاک چین یا کیو آر کوڈ کے ذریعے ٹریس ایبلٹی نظام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے برانڈز کو متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی سے چھوٹے برآمد کنندگان بھی براہ راست بین الاقوامی خریداروں تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں گے۔