گندم کے سٹوں پر سیاہ دھاریاں بیماری نہیں بلکہ قدرتی خصوصیت ہیں،کاشتکار گندم کے جامنی سٹوں سے پریشان نہ ہوں، محکمہ زراعت

منگل 10 مارچ 2026 13:39

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 مارچ2026ء) محکمہ زراعت کے ماہرین نے کہا ہے کہ گندم کے سٹوں پر نظر آنے والے جامنی، بھورے یا سیاہ دھبے کسی بیماری کی علامت نہیں بلکہ ایک جینیاتی اور قدرتی کیفیت ہے جسے پیسوڈو بلیک چاف، براؤن میلانوسس یا براؤن نیکروسس کہا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیفیت میں گندم کی بالی کے چھلکوں اور بعض اوقات بالی کو جوڑنے والے تنے پر گہرے بھورے یا سیاہ رنگ کی دھاریاں یا دھبے ظاہر ہو جاتے ہیں۔

ظاہری طور پر یہ کسی بیماری جیسے لگ سکتے ہیں تاہم اس کا تعلق کسی جراثیم یا پھپھوندی سے نہیں ہوتا۔زرعی ماہرین کے مطابق یہ کیفیت عموماً ان گندم کی اقسام میں ظاہر ہوتی ہے جن میں ایک خاص جین (ایس آر ٹو) موجود ہوتا ہے۔ یہ جین گندم کو تنا زنگ نامی خطرناک بیماری کے خلاف مضبوط اور دیرپا مزاحمت فراہم کرتا ہے، اس لیے اسے دراصل گندم کی ایک مفید جینیاتی خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ یہ نشان زیادہ تر گرم اور قدرے نم موسم میں دانہ بننے کے مرحلے کے دوران نمایاں ہوتے ہیں،تاہم اس سے گندم کی پیداوار یا دانے کے معیار پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی یہ ایک پودے سے دوسرے پودے میں پھیلتا ہے۔محکمہ زراعت کے ماہرین نے کاشتکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسے بیماری سمجھ کر غیر ضروری زرعی زہروں کا سپرے نہ کریں کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بہتر ہے کہ فصل کو قدرتی حالت میں رہنے دیا جائے، ہلکی آبپاشی جاری رکھی جائے اور فصل کی بروقت کٹائی کی جائے تاکہ صحت مند اور محفوظ پیداوار حاصل ہو سکے۔

متعلقہ عنوان :