سی سی آر آئی ملتان کی کپاس کے کاشتکاروں کیلئے سفارشات ، گندم کی کٹائی کے بعد ناڑ کو آگ لگانے سے گریز کرنے کی ہدایت

جمعرات 16 اپریل 2026 19:00

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 اپریل2026ء) سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی)ملتان میں فارمرز ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا چوتھا اجلاس ڈائریکٹر صباحت حسین کی صدارت میں منعقد ہوا،جس میں کپاس کی اگیتی اور موسمی کاشت کے حوالے سے آئندہ پندرہ روز کیلئے جامع سفارشات جاری کی گئیں۔اجلاس میں کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی کہ گندم کی کٹائی کے بعد ناڑ کو آگ لگانے سے گریز کریں اور اسے زمین میں دبا کر زرخیزی میں اضافہ کریں۔

گلنے کے عمل کو تیز کرنے کیلئے آدھی بوری یوریا ڈال کر آبپاشی کی جائے۔بارشوں کے بعد جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے جبکہ فصل میں پیلاہٹ کی صورت میں آدھی بوری یوریا فی ایکڑ یا ایک فیصد محلول کا سپرے مفید قرار دیا گیا۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے کلراٹھی زمینوں میں 25 تا 30 بوری جپسم فی ایکڑ استعمال کرنے، زمین و پانی کا تجزیہ کرانے اور کمزور زمین میں گوبر کی کھاد شامل کرنے کی بھی سفارش کی۔

25 سے 30 دن کی فصل میں چھدرائی مکمل کر کے ڈی اے پی یا این پی کھاد ڈالنے کی ہدایت دی گئی۔ماہرین کے مطابق رس چوسنے والے کیڑوں، خصوصاً سفید مکھی کے تدارک کیلئے فی ایکڑ 10 پیلے چپکنے والے پھندے نصب کیے جائیں جبکہ گلابی سنڈی کے خلاف سیکس فیرامون ٹریپس کے استعمال پر زور دیا گیا۔ مزید برآں لیزر لینڈ لیولر کے استعمال، چیزل پلو چلانے اور جڑی بوٹی مار ادویات کے بروقت استعمال کو بھی ضروری قرار دیا گیا۔

کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی کہ بیج صرف مستند اداروں سے حاصل کریں اور منظور شدہ، خصوصاً ٹرپل جین اقسام کاشت کریں۔بیج کو امیڈاکلوپرڈ اور ٹیبوکونازول کے محلول سے ٹریٹ کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا تاکہ ابتدائی 40 دن تک فصل کو کیڑوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کپاس کی بوائی کے وقت قطاروں کا رخ شمالاً جنوباً رکھا جائے اور پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رکھا جائے۔کاشتکاروں کو خبردار کیا گیا کہ وہ کپاس کی کاشت ایسی زمینوں میں نہ کریں جہاں پہلے بھنڈی یا بینگن کی فصل موجود ہو۔اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین نے شرکت کی جبکہ آئندہ اجلاس 2 مئی کو اسی ادارے میں منعقد ہوگا۔

متعلقہ عنوان :