حضرت بی بی پاک دامن ؑ پر نذرانوں کی چوری میں ملوث اہلکاروں کو سزائیں سنا دی گئیں

بدھ 3 جون 2026 16:43

حضرت بی بی پاک دامن  ؑ پر  نذرانوں کی چوری میں ملوث اہلکاروں کو سزائیں ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) حضرت بی بی پاک دامن ؑپر نذرانوں کی چوری میں ملوث اہلکاروں کو سزائیں سنا دی گئیں۔ ترجمان محکمہ اوقاف پنجاب کے مطابق سیکرٹری/چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے بحثیت مجاز اتھارٹی مالی بدعنوانی کے خلاف سخت ترین ''زیرو ٹالرنس'' پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت ایک حتمی فیصلہ جاری کرتے ہوئے درگاہ حضرت بی بی پاک دامن ؑ پر ماضی میں تعینات رہنے والے اہلکاروں کو سخت سزائیں سنا دی ہیں۔

ترجمان کے مطابق تفصیلی انکوائری میں زائرین کے نذرانوں کی چوری کا جرم ثابت ہونے پر چیف ایڈمنسٹریٹر نے ہیرنگ آفیسر کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے۔ اوقاف بورڈ اور وزیر اوقاف چوہدری شافع حسین کی ہدایات پر شروع کی جانے والی ان تادیبی کارروائیوں کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مقدس مزارات کے نذرانوں میں خیانت عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔

(جاری ہے)

فیصلے کے مطابق زاہد اقبال (سابق مینیجر) کو سنگین غفلت، آمدن کے غیر معمولی پیٹرنز اور تحریری معائنہ نہ کرنے کے جرم میں 5 سالہ ملازمت کی ضبطگی کی بڑی سزا سنائی گئی ہے جبکہ خزانے کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے 53,86,764 روپے کی آفیشل ریکوری کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ مزید برآں، سابق سینئر کلرک/اکانٹنٹ امتیاز حسین کو کیش بک کی ناقص دیکھ بھال، افسران کے دستخط نہ ہونے اور آمدن کی بے ضابطگیوں کی رپورٹ نہ کرنے پر تین سال کے لیے سالانہ ترقیاں روکنے کی چھوٹی سزا دی گئی ہے۔

دوسری جانب، اگرچہ سابق گیٹ کیپر محسن شاہ اور سابق کیئر ٹیکر ظفر اقبال کے خلاف مالی بدعنوانی کے الزامات قانونا ثابت نہیں ہو سکے، تاہم محکمہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ تمام متعلقہ اہلکاروں کی سروس بک میں سخت انتظامی پابندیاں درج کر دی گئی ہیں جس کے تحت انہیں مستقبل میں کسی بھی کیش ہینڈلنگ، نذرانہ و عطیات مینجمنٹ پوائنٹ، یا فیلڈ ریونیو کی پوزیشن پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ترجمان نے محکمہ اوقاف کے تمام ملازمین کو واضح الفاظ میں کہا کہ اتھارٹی محکمہ اوقاف زائرین کے نذرانوں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا خرد برد کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور ایسے عناصر کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ عنوان :