/ وائی ڈی اے کا تیزاب گردی کے خلاف ہسپتالوں کی او پی ڈیز اور الیکٹو سروسز غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ

) ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت نے شکوک پیدا کیے، ججز پر مشتمل کمیٹی سے صاف شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ڈاکٹر طاہر

اتوار 7 جون 2026 20:30

hکوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 جون2026ء) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماء ڈاکٹر طاہر موسیٰ خیل، ڈاکٹر صابر مندوخیل سمیت دیگر نے ہسپتال میں پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو 4 نکاتی مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کی سیکورٹی کے حوالے سے ذمہ دار پیشہ ورانہ تربیت یافتہ لوگوں کو سونپی جائے اور واقعہ کی غیر جانبدار ، صاف اور شفاف تحقیقات کے لئے ججز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیکر حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔

ڈاکٹر ماہ نور اور میڈیکل ٹیکنیشن کو حکومتی اخراجات پر علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ آج سے ہم سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈی اور الیکٹوسروسز کو غیر معینہ مدت تک بند رکھتے ہوئے ہسپتال میں احتجاجی کیمپ لگائیں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو اپنے دیگر عہدیداروں ڈاکٹر عزیز الرحمن ، ڈاکٹر عطاء محمد ، ڈاکٹر ناصر ، ڈاکٹر طارق سمیت دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعہ اور سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی آئی جی پولیس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے متعدد بار ہسپتالوں کی سیکورٹی اور ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹرز کی حفاظت کے حوالے سے ہسپتال اور متعلقہ سیکورٹی حکام کو آگاہ کرچکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی اس کے علاوہ متعدد بار ہسپتالوں میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جس میں گزشتہ کچھ عرصہ قبل شعبہ امراض گائنی سول ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر کو مریض کے لواحقین نے ہراساں کی اور تشدد کا نشانہ بنایا اس کے علاوہ اسی سال کوہاٹ میں ڈاکٹر مہوش کو رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں ابدی نیند سلا دیا گیا ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے ساتھ ان کے مرد اور خواتین کو وارڈ اور دیگر مقامات پر آنے کی اجازت نہ دی جائے ڈاکٹرز اپنی جان پر کھیل کر مریضوں کا علاج کرتے ہیں لیکن فرائض کی ادائیگی اور سروسز کی فراہمی کے دوران ڈاکٹرز کے ساتھ جو رویہ روا رکھا جاتا ہے وہ قابل برداشت نہیں اس لئے حکومت اور صاحب اقتدار ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانا ہوگا کہ تیزاب سے بھری بوتل کیسے ایک درندہ صفت شخص اندر لے آیا اور پوری بوتل ڈاکٹر ماہ نور پر پھینک دی جس سے ان کا چہرہ اور جسم کا دیگر حصہ جل گیا انہوں نے کہا کہ ہمیں فوٹیج نہیں فراہم کی جارہی تھی ہماری کوشش تھی کہ ڈاکٹر کو علاج اور اس میں ملوث ملزم کو قانون کی گرفت میں لایا جائے کہ اور ہمیں معلومات ملی ہے کہ مجرم پولیس مقابلے میں جہنم واصل ہوچکا ہے لیکن اس کو گرفتار کرکے حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں اس کی ہلاکت کے دعوے نے بہت سے شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی پرائیوٹائزیشن اور انتظامی امور کی پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے حوالے کرنے سے سیکورٹی کے امور اس حدتک خراب ہوچکے ہیں کہ یہ ٹھیکیدار ہمارے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی ڈیوٹی کو محفوظ بنانے کے لئے کہاں سے لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں اس کسی کو علم نہیں وہ اپنی جان پہچان سے ٹھیکہ لیتے ہیں اور دو بڑے ہسپتالوں کی سیکورٹی جیسے حساس امور کو غیر پیشہ ورانہ غیر تربیت یافتہ لوگوں کے سپرد کردیا جاتا ہے جس سے ایسے واقعات رونما ہونا روز کا معمول بن چکا ہے پرائیویٹ ٹھیکیداروں اور ان کے سہولت کاروں کے اقدامات نے بھی بہت سے شکوک و شبہات پیدا کئے ہیں حالات کی وجہ سے ڈاکٹرز ہسپتالوں میں فرائض کی ادائیگی کم اور اپنی جانے بچانے میں مصروف رہتے ہیں ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز او پی ڈی اور الیکٹول سروسز غیر معینہ مدت تک بند رکھ کر سول ہسپتال میں احتجاجی کیمپ لگائیں گے جب تک ہمارے حکومت کو دیئے گئے مطالبات ڈاکٹر ماہ نور ، عبدالرزاق خلجی کو حکومتی اخراجات پر تمام طبی سہولیات اور علاج معالج فراہم نہیں کیا جاتا اور ڈاکٹر ماہ نور کے اہلخانہ کے ساتھ ڈاکٹرز کمیونٹی مکمل تعاون کرے گی تمام سرکاری ہسپتالوں میں سیکورٹی کیلئے ایک جامع اور مکمل منصوبہ بناتے ہوئے ذمہ دار پیشہ ورانہ تربیت یافتہ لوگوں کو ذمہ داری دی جائے اس دلخراش واقعہ کی غیر جانبدار صاف اور شفاف تحقیقات کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صاف اور شفاف تحقیقات کے لئے ججز پر کمیٹی تشکیل دی جائے جو حقائق کا جائزہ لیکر سچ عوام کے سامنے لائیں ہم گزشتہ کئی عرصے ہسپتالو ں کی حالت زار اور سیکورٹی امور کے حوالے سے سیکرٹری صحت اور حکومت اور ایم ایس کو آگاہ کرتے رہے ہیں ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مذکورہ ملزم کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی سیکورٹی حکام اور ٹھیکیداروں کو شکایات کی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور یہ واقعات رونما ہوگیاایک اور سوال کے جواب میں ہسپتال میں سیکرٹری صحت اور ڈی آئی جی پولیس کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کی مذمت کرتے ہیں