پی ایچ ڈی ڈگری کیلئے نئے سخت معیار، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا بڑا فیصلہ

ڈاکٹریٹ کے حصول سے قبل تین قومی اور ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت لازمی قرار دیدی گئی فارنزک سائنسز میں پی ایچ ڈی کی منظوری، میڈیکل ایجوکیشن اور نرسنگ سمیت چھ نئے نصاب منظور

جمعرات 2 جولائی 2026 22:21

پی ایچ ڈی ڈگری کیلئے نئے سخت معیار، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا بڑا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جولائی2026ء) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) نے تحقیق کے معیار کو عالمی سطح پر لے جانے اور اعلیٰ طبی تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پی ایچ ڈی پروگرامز میں اہم اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔ اب ہر پی ایچ ڈی سکالر کے لیے ڈگری حاصل کرنے سے قبل اپنے متعلقہ شعبے میں کم از کم تین قومی اور ایک بین الاقوامی کانفرنس یا سیمینار میں شرکت لازمی ہوگی۔

یہ فیصلہ جمعرات کو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسن وحید راٹھور کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ (ASRB) کے 227ویں اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ڈاکٹر محمد فہیم اشرف کو فارنزک سائنسز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کی منظوری بھی دی گئی۔

(جاری ہے)

ان کی تحقیق نینو پارٹیکلز پر مبنی ایسے سینسر کی تیاری سے متعلق ہے جو فارنزک تحقیقات میں لائیڈوکین اور اس کے میٹابولائٹس کی فوری نشاندہی کر سکتا ہے۔

ان کی تحقیقی کاوش ایچ ای سی کی ''ڈبلیو'' کیٹیگری کے تحقیقی جریدے میں بھی شائع ہو چکی ہے۔ ریسرچ بورڈ نے پی ایچ ڈی ان میڈیکل ایجوکیشن، پی ایچ ڈی ان نرسنگ، پی ایچ ڈی ان اورل بایولوجی، پی ایچ ڈی ان پبلک ہیلتھ، ماسٹر آف ہیلتھ پروفیشنز ایجوکیشن (MHPE) کے نظرثانی شدہ نصاب اور سرٹیفکیٹ اِن کمپری ہینسو فیملی میڈیسن پریکٹس اینڈ ایمرجنسی کیئر (CCFP-EC) کی بھی منظوری دے دی۔

پی ایچ ڈی نرسنگ کا نیا نصاب ''نرچر'' فریم ورک کے تحت تیار کیا گیا ہے جس میں تحقیقی مہارت، کلینیکل لیڈرشپ، تدریسی صلاحیت، صحت عامہ کی پالیسی، 500 گھنٹے کلینیکل ریزیڈنسی، 200 گھنٹے ٹیچنگ ریزیڈنسی اور لازمی لائف سیونگ سکلز ورکشاپس شامل ہیں۔ اسی طرح پی ایچ ڈی پبلک ہیلتھ پروگرام میں بیماریوں کی روک تھام، صحت کے فروغ، ہیلتھ سسٹمز کی مضبوطی، کمیونٹی بیسڈ ریسرچ، امپلیمنٹیشن سائنس اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے جبکہ پی ایچ ڈی اورل بایولوجی کے نصاب میں کرینیوفیشل بایولوجی، ری جنریٹو ڈینٹسٹری، اسٹیم سیلز، بایومیٹیریلز، ڈینٹل فارنزک سائنس، اورل مائیکروبایولوجی اور اورل امیونولوجی جیسے جدید موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں چھ ماہی سرٹیفکیٹ اِن کمپری ہینسو فیملی میڈیسن پریکٹس اینڈ ایمرجنسی کیئر پروگرام کی بھی منظوری دی گئی جس کا مقصد جنرل پریکٹیشنرز کی کلینیکل مہارتوں میں اضافہ، ایمرجنسی مینجمنٹ کی تربیت اور بنیادی صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ بورڈ نے میڈیکل ایجوکیشن کی پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر زہرہ خانم کی تھیسس رپورٹ کی بھی منظوری دی جبکہ مختلف شعبہ جات میں پی ایچ ڈی، ایم فل، ایم ڈی، ایم ایس اور ایم ڈی ایس کے

متعلقہ عنوان :