آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال

منگل 25 اگست 2026 21:24

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 25 اگست2026ء) آزاد جموں و کشمیر کے مظفرآباد اور میرپور ڈویڑنز سمیت بیشتر علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہونے کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں بھی دوبارہ شروع ہوگئی ہیں، تاہم راولاکوٹ میں احتجاج کے باعث تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں تاحال متاثر ہیں۔ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی سے مظفرآباد اور میرپور کے طلبہ و طالبات نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ راولاکوٹ کے طلبہ نے تعلیمی نقصان اور قیمتی وقت ضائع ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مظفرآباد اور میرپور ڈویڑنز میں تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد طلبہ و طالبات نے اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے دوبارہ کھلنے سے انہیں اپنے تعلیمی اہداف پر توجہ مرکوز کرنے اور تعلیمی سلسلہ آگے بڑھانے کا موقع ملا ہے۔

(جاری ہے)

طلبہ و طالبات کے پرامن ماحول میں تعلیم کا تسلسل ان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے تعلیمی سرگرمیوں کو ہر صورت بلا رکاوٹ جاری رہنا چاہیے تاکہ طلبہ کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو اور وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے مستقبل کے اہداف حاصل کرسکیں۔

دوسری جانب راولاکوٹ میں احتجاج اور دھرنے کے باعث تعلیمی سرگرمیاں تاحال معطل ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ و طالبات کو تعلیمی نقصان کا سامنا ہے۔ راولاکوٹ کے طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث ان کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے اور تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔راولاکوٹ کے طلبہ و طالبات نے کہا کہ تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل سے نہ صرف ان کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے بلکہ اس کے اثرات ان کے مستقبل اور کیریئر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے متعلقہ حلقوں سے اپیل کی کہ احتجاج اور دھرنے کے مسئلے کو جلد حل کرکے تعلیمی ادارے دوبارہ کھولے جائیں۔طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مطالبہ تعلیم کا تسلسل اور پرامن تعلیمی ماحول کی فراہمی ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور مستقبل کے اہداف حاصل کرسکیں۔والدین اور طلبہ کے مطابق تعلیمی اداروں کی بندش کا دورانیہ طویل ہونے کی صورت میں طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے، اس لیے تمام فریقین کو معاملات افہام و تفہیم سے حل کرکے تعلیمی سرگرمیوں کی مکمل بحالی کو یقینی بنانا چاہیے۔