Aik Hajjam - Joke No. 786

ایک حجام - لطیفہ نمبر 786

امریکا میں ایک حجام تھا۔ انوکھی بات یہ تھی کہ وہ اپنے گاہکوں سے پیسے بالکل نہ لیتا اور کہتا کہ میں اپنے شوق کی تکملے کے ساتھ خدمت خلق کر رہا ہوں… ایک شخص نے بال کٹوائے شیو بنوائی اور جب اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے کہا کہ بھائی میرے لئے دعا کر دینا۔ اس شخص کی پھولوں اور گفٹ کی دکان تھی۔ اگلے دن جب صبح حجام دکان پر پہنچا تو وہاں پر پھول گفٹ اور وش کارڈ آویزاں تھے۔ اس نے خوش دلی سے وہ لے لئے۔ پھر ایک شخص جس کی کتابوں کی دکان تھی اس نے حجام سے بال وغیرہ کٹوائے اور اگلے دن اپنی خوشی سے چند عمدہ کتابیں پیک کر کے بھجوا دیں۔ اسی طرح ایک شخص کی گارمنٹس کی دکان تھی اس نے چند شرٹس اور ٹائی بھجوا دی۔ پھر ایک دن ایک پاکستانی وہاں چلا گیا۔ پاکستانی نے بال کٹوائے شیو بنوائی۔ غسل کیا اور اجرت پوچھی تو حسب معمول حجام نے نہ لی۔ اب اگلی صبح جب حجام اپنی دکان پر پہنچا تو اس نے دیکھا…بھلا کیا دیکھا؟ ایک پاکستانی بن کر سوچئے اور اندازہ لگاےئے…جی ہاں وہاں 50 کے قریب پاکستانی اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ کب یہ دکان کھلے اور وہ سب مفت میں بال و شیو بنوائیں۔

مزید لطیفے

کھارا،باسی، مہنگا

Khara Basi Mehnga

فلسفی

Falsfi

پاگل

Pagal

استاد

ustaad

قصاب

qassab

نیا ڈاکٹر

Naya Doctor

آدھا حصہ

aadha hissa

کرایہ دار

Karaya Dar

نگیٹو

ngito

فیصل کاشف سے

Faisal kashif se

ماسٹر صاحب

Master sahib

استاد شاگرد سے

Ustad Shagird se

Your Thoughts and Comments