Kaan Kata - Joke No. 1461

کان کٹا - لطیفہ نمبر 1461

ایک لیڈر صاحب جن کا ایک کان کسی حادثے میں کٹ گیا تھا۔ ایک جلسے میں تقریر کر رہے تھے دوران تقریر وہ سینے پر ہاتھ مار کر بڑے جوش سے بولے۔ ”میں قوم کے لئے اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہوں۔ مجمع میں سے آواز آئی۔ کان کٹے کی قربانی جائز نہیں۔

مزید لطیفے

بجلی

bijli

ہیلپر

Helper

پروفیسر اپنے کسی دوست کے

Prof apne kisi dost ke

بھیک

bheek

ایک پرانی

Aik purani

ڈاکٹر اور مریض

doctor aur mareez

صرف ایک گولی

Sirf Aik Goli

الیکشن

Election

شوکت تھانوی

shaukat thanvi

ایک ضدی بیوی

aik ziddi biwi

چپ رہو

chup raho

دانش کے دوست

Danish ke dost

Your Thoughts and Comments