Quaid E Azam - Joke No. 475

قائداعظم - لطیفہ نمبر 475

قائداعظم کو بچوں سے بہت محبت تھی اور وہ ان کی معصوم خواہشات کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک بار جب وہ طلبہ سے خطاب کرنے کے لئے آئے تو ان سے آٹو گراف لینے والوں کا ہجوم جمع ہو گیا ہر کوئی دستخط کے لئے قائداعظم کے سامنے خوبصورت آٹو گراف بک پیش کر رہا تھا۔ ایک لڑکا ایسا تھا جس کے پاس کوئی آٹو گراف بک نہ تھی مگر اسے قائداعظم سے آٹو گراف حاصل کرنے کا بہت شوق تھا اس نے ڈرتے ڈرتے ایک سادہ کاغذ ان کے سامنے کر دیا قائداعظم بچے کو دیکھ کر مسکرائے اور جلدی سے کاغذ لے کر اس پر دستخط کر دیے اور یہ کہتے ہوئے کاغذ بچے کو تھما دیا ”بیٹا! تم تو گاندھی سے بھی برے نکلے‘ وہ آج تک مجھ سے سادہ کاغذ پر دستخط حاصل نہیں کر سکا“َ

مزید لطیفے

مرغی کا بچہ بلی کے پیٹ میں

murghi ka bacha billi ke pait mein

اداسی کی وجہ

udasi ki wajah

پولیس اور افسر

police aur officer

بول چال بند

Bol Chal Band

ایک لڑکا

Aik larka

ٹکٹ

Ticket

بولی

boli

ایک چالاک لڑکی

aik chalak larki

ایک دیہاتی

aik dehati

فقیرعورت سے

Faqeer Aurat se

کسی نے مچھروں سے پوچھا

kisi ne macharoon se pucha

نجات

Nijat

Your Thoughts and Comments