Wazir Sahib

وزیر صاحب

وزیر صاحب پاگل خانے کے دورے کے موقع پر بھی تقریر کرنے سے باز نہ آئے‘ تمام پاگل میدان میں جمع ہو کر ان کی تقریر سن رہے تھے کہ اچانک ایک پاگل نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا اور پھر بلند آواز بولا۔ ”ہائے ری قسمت ہمیں یہ دن بھی دیکھنا تھا ہمیں ایسی بیہودہ بے معنی اور جھوٹی تقریر بھی سننا تھی۔ افسوس صدا افسوس! وزیر صاحب نے کھسیانے ہو کر سپرٹنڈیٹ کی طرف دیکھا اور بولے۔ ”میرا خیال ہے کہ اب میں تقریر ختم کر دوں؟“ صاحب نے نہیں سر! آپ تقریر جاری رکھئے! سپرٹنڈیٹ جلدی سے بولے۔ ”اس پاگل کی باتوں میں مت جاےئے۔ اب یہ آپ کو تنگ نہیں کرے گا یہ سال میں صرف ایک مرتبہ ہی عقل کی بات کرتا ہے۔“

Your Thoughts and Comments