Child Labour

Child Labour

چائلڈلیبر۔۔۔معاشرتی ناسور

مزدور بچوں پر آخری سروے 1996ء میں ہوا تھا۔جس میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں 33لاکھ بچے مزدور ہیں

مزدور بچوں پر آخری سروے 1996ء میں ہوا تھا۔جس میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں 33لاکھ بچے مزدور ہیں غربت کے ہاتھوں مجبور مزدوری کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم‘علاج معالجہ اور کفالت فراہم کرنے کے ذرائع مہیا کرنے ہوں گے۔وہ دوسرے بچوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کاش ہم بھی سکول جا سکتے ۔

بچے جنت کے پھول ہیں۔یہ خدا کی خوبصورت اور صاف و شفاف تخلیق ہیں۔ بچے جب صبح سکول جانے کی تیاری کرتے ہیں تو گھروالے ان کی معصومیت پر خوش ہوتے ہیں،ایسے بچے بھی ہیں جو مالی مشکلات کی وجہ سے سکول نہیں جا سکتے۔وہ دوسرے بچوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کاش ہم بھی سکول جا سکتے، ایسے بچے بھی ہیں جن کے گھر والے محنت مزدوری نہیں کر سکتے اور انکے بچوں کو کام کرنا پڑتا ہے۔

(جاری ہے)

بچے ملک کا روشن مستقبل ہیں۔گھریلو حالات سے تنگ آ کر سکول جانے کی عمر میں گھر کا چولہا جلانے کے لیے سکول جانے کی بجائے کاروباری مراکز پر کام کرتے ہیں۔یہ ایک المیہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی ناسور کی شکل اختیار کررہا ہے۔
ساری دنیا اس لعنت کا سامنا کر رہی ہے۔خصوصاً تیسری دنیا کے غریب ممالک اسکا زیادہ شکار ہیں۔پاکستان جیسا ملک جہاں اشرافیہ امیر سے امیر تر اور غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔وہاں غریبوں کے بچے سکول جانے کی بجائے دکانوں ‘ ہوٹلوں‘بس اڈوں‘ورکشاپوں اور دیگر متعدد جگہوں پر مزدوری پر لگا دیتے ہیں۔

بد قسمتی سے اس ملک میں نہ تو تعلیم فری ہے اور نہ ہی علاج۔اگر تعلیم کے لیے سکول ہیں تو کتابوں اورفیسوں کے لیے غریبوں کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ہمارے ملک کو وجود میں آئے 67 سال ہو چکے ہیں مگر حکمرانوں کو اس ملک کا گودا چوسنے سے ہی فرصت نہیں کہ وہ اس ملک کے نونہالوں کے مستقبل کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کوئی حکمت عملی مرتب کر سکیں تاکہ چائلڈ لیبر کو روکا جا سکے۔

ہمارے ملک میں عوامی حقوق کی بات تو سب ہی سیاسی جماعتیں کرتی ہیں لیکن چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے کسی بھی جماعت نے اسے اپنے منشور کا حصہ نہیں بنایا۔پاکستان میں چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے مندرجہ ذیل قوانین موجود ہیں جن میں ”امپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ“ 1991 ء”فیکٹریز ایکٹ“1934ء”ویسٹ پاکستان شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ آرڈیننس“ 1969 ء ”دی باؤنڈ لیبر سسٹم ابالشن ایکٹ“1992ء اور”پنجاب کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ“1994ء وغیرہ ہیں۔
لیکن ان پر عمل درآمد آج تک نہیں ہو سکا۔چار سے چودہ سال کے گیارہ ملین بچے آج بھی فیکٹریوں اور دیگر مقامات پر انتہائی نامساعد حالات میں کام کر رہے ہیں۔
مزدور بچوں پر آخری سروے 1996ء میں ہوا تھا۔جس میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں 33لاکھ بچے مزدور ہیں۔
جبکہ یہ صرف باقا ئدہ جگہوں پر کام کرنے والے بچوں کی تعداد ہے۔مزدور بچوں کا اسی فیصد تو غیر رسمی شعبہ میں ہے جیسے گھروں اور کھیتوں میں کام کرنے والے جن کا کوئی سروے نہیں کیا جاتا۔سماجی بہبود پر کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق باقائدہ شعبوں میں کام کرنے والے مزدور بچوں کی تعداد چالیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
جس میں سے صرف بیس لاکھ بچے پنجاب سے ہیں۔پاکستان میں بچوں کی مزدوری سے متعلق قوانین میں بچوں سے مراد ایسے نو عمر لوگ ہیں جن کی عمر چودہ سال سے کم ہے۔
جبکہ عالمی کنونشن میں یہ عمر پندرہ سال ہے۔یہ ایک المیہ ہے کہ ملک میں پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے دو کروڑ بیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔
اور یہ بچے کسی وقت بھی نو عمر مزدور بن سکتے ہیں۔یہ بچے اکثر گاڑیوں کی ورکشاپوں‘فرنیچر کارخانوں‘ہوٹلوں اور دکانوں پر کام کرتے دکھا ئی دیتے ہیں۔اس کے علاوہ ملک بھر میں ان بچوں سے نہ صرف مزدوری بلکہ جبری مشقت بھی لی جاتی ہے۔

بچوں کے لیے سب سے خطرناک کام چمڑے کی صنعت ہے۔جہاں بڑی تعداد میں کیمیکل استعمال ہوتے ہیں۔جو ان ننھی جانوں کے پھیپڑوں پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔جبکہ قالین بانی میں پنجوں پر بیٹھنے کی وجہ سے ان بچوں اکثر اوقات ان بچوں کے پاؤں مڑ جاتے ہیں۔
اسی طرح ہسپتالوں سے کوڑا کرکٹ‘ٹیکے‘گندی پیٹیاں بھی اٹھتے ہیں جن کے بارے میں وہ نہیں جانتے کہ وہ کتنی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔بچوں کی مزدوری کرنے کی بڑی وجہ غربت ہے۔اکثر والدین صرف پیسوں کی بجائے صرف اس غرض سے بچوں کو کام پر بھیجتے ہیں کہ وہ کوئی ہنر ہی سیکھ لیں گے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں بچوں سے مزدوری لینے کے کام میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔آئی ایل او کے مطابق پاکستان میں مزدور بچوں کی تعداد میں بہت کمی ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود بچوں کی ایک بڑی تعداد چوڑی سازی‘چمڑے سازی‘سرجیکل آلات کی صنعت‘کوئلے کی کانوں اور گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے کاروبار میں ہیں۔
اس طرح پورے ملک میں ایک لاکھ دس ہزار بچے صرف کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ہسپتالوں کا فضلہ جمع کرنے کے کاروبار سے منسلک ہیں۔
اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی‘بے روزگاری‘تعلیمی اخراجات میں اضافہ اور خکمرانوں کی چائلڈ لیبر پالیسی سے پردہ پوشی کی وجہ سے چائلڈ لیبر کم ہونے کی بجائے بڑھے گی۔
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی فعال کردار ادا کرناہو گا۔ غربت کے ہاتھوں مجبور مزدوری کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم‘علاج معالجہ اور کفالت فراہم کرنے کے ذرائع مہیا کرنے ہوں گے۔

Your Thoughts and Comments