Mausam Garma Ki Tatilat Ka Ekhtataam Aur School Jane Ki Tayariyan

موسم گرما کی تعطیلات کا اختتام اور سکول جانے کی تیاریاں

دوستوں اور کلاس فیلوز سے ملنے کا احساس بچوں میں ایک نئی خوشی کی لہر پیدا کر دیتا ہےاگست کا مہینہ شروع ہونے ہی موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے میں چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔

جمعہ اگست

mausam garma ki tatilat ka ekhtataam aur school jane ki tayariyan

دوستوں اور کلاس فیلوز سے ملنے کا احساس بچوں میں ایک نئی خوشی کی لہر پیدا کر دیتا ہےاگست کا مہینہ شروع ہونے ہی موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے میں چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں۔ ایسے میں بچے اپنا چھٹیوں کا کام مکمل کرنے کے لیے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔

کتنے ہی نو نہال ایسے ہیں جن کے سکول کھلنے کے ساتھ ہی پہلی سہ ماہی کے امتحانات کا آغاز ہو جائے گا۔ لہٰذا یہ زیادہ سے زیادہ امتحانات کی تیاری کرنے میں مصروف عمل دکھائی دے رہے ہیں۔ جن طالب علموں کا چھٹیوں کا کام اور امتحانات کی تیاری مکمل ہو چکی ہے ان کی خوشی دیدنی ہے۔
مگر تعطیلات ختم ہونے کا ملال ہر کسی طالب علم کے چہرے پر دکھائی دے رہا ہے۔ اس ملال کی ایک وجہ بچے یہ بتاتے ہیں کہ اب انہیں سکول جانے کے لئے صبح جلدی بیدار ہونے پڑے گا۔

(جاری ہے)

ایسے بچوں کے والدین بھی اس صورتحال سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں کہ کس طرح وہ دوبارہ ان کی روٹین بہتر کریں۔

ایسے میں والدین سے گزشتہ ہے کہ وہ ابھی سے بچوں کو رات جلدی سونے کا عادی بنا دیں۔صبح جلدی جاگنے کے لیئے ضروری ہے کہ نو نہال را ت جلدی سو جائیں۔ جب یہ مکمل نیند لیں گے تو یہ صبح ہشاش بشاش جاگیں گے اور ان کا سکول کا دن بھی چاق وچو بند گزرے گا۔
جو بچے رات کو دیر سے سوتے ہیں وہ صبح نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے سکول میں اونگتے دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا پڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا۔ بچے تو معصوم ہیں یہ اپنے اچھے بڑے سے ناواقف ہیں۔ لہٰذا یہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کے سونے اور جاگنے کا ایک ٹائم متعین کریں ۔
کوشش کی جائے کہ بچوں کو رات 9 بجے ہی سلا دیا جائے تا کہ اگلے دن انہیں جگانے میں آپ کو تگ و دو نہ کرنی پڑے اور نہ ہی انہیں جاگنے میں کسی عار کا سامنا کرنا پڑے ۔ مکمل نیند ان کے دماغ کو تازہ دم کرتی ہے اور ان کی ذہنی استعداد میں وسعت پیدا کرنی ہے مگر موسم گرما کی 3 ماہ کی تعطیلات میں ان کے سونے اور بیدار ہونے کی روٹین بگڑ جاتی ہے۔
یہ ان 3 مہینوں یں دیر سے سونے اور دیر سے صبح جاگنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ طالب علموں کو اساتزہ کا سامنا کرنے کا بھی خوف لاحق رہتا ہے۔ اساتزہ کرام کو اپنا رویہ ان کے ساتھ شفیق رکھنے کی ضروت ہے انہیں بات بات پر جھڑ کنے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ ہر کسی بچے کی ذہنی استعدادبرابر نہیں ہوتی ہے۔
ایسے میں اگر انہیں جھڑکایا ڈانٹا جائے تو ان میں خود اعتمادی کا فقدان آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے۔ یہ ٹیچر کی ڈانٹ کے خوف سے کلاس میں سبق سے متعلق سوالات کرنے سے احتیاط برتنے لگتے ہیں۔ نتیجتاََ امتحانات میں ان کی کارکردگی باقی طالب علموں کی نسبت کم رہتی ہے۔
ویسے تو پرائیوٹ سکولز اب ان امور پر خاص توجہ دے رہے ہیں کہ بچے کو پیار اور توجہ سے پڑھایا جائے اور جہاں تک ممکن ہوڈانٹ اور مار سے پرہیز کیا جائے مگر سرکاری سکولز میں آج بھی وہی پرانا ڈنڈا سسٹم رائج ہے۔ یہی وجہ ے کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی کارکردگی پرائیوٹ سکول میں پڑھنے والے طالب علم سے نمایاں طور پر کم رہتی ہے۔
سکول کھلنے کی وجہ سے بچوں کے چہروں پر چھاجانیوالی اداسی کو والدین اس طرح دور کر سکتے ہیں کہ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ تین ماہ بعد اپنے دوستوں سے ملیں گے۔
دوستوں اور کلاس فیلوز سے ملنے کا احساس ان میں ایک نئی خوشی کی لہر پیدا کر دیتا ہے اور یہ ان سے ملاقات اور ان کے ساتھ کھیلنے کے لیئے تعطیلات ختم ہونیکا انتظار انگلیوں پر گن گن کر کرتے ہیں۔
بچوں کی آپس میں دوستی اور میل جول ان کی شخصیت میں دوسروں کی مدد کرنے ، خود اعتمادی ، پیار ، مخلصانہ رویہ جیسے عناصر پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ آگے چل کر معاشرے کے کامیاب شہری کے طور پر خود کو منوا سکتے ہیں۔ ایک اور امر بہت لازم ہے ، وہ ہے بچوں کا سکول بیگ تیار کرنا ماؤں کو چاہیے کہ وہ ابھی سے ان کا سکول بیگ تیار کر لیں۔
نا مکمل اشیاء کو پورا کرلیں۔ تمام مضامین کی نوٹ بک اور کتابیں پہلے سے بیگ میں رکھ دی۔ جیومیٹری باکس کا سامان مکمل کر لیں۔ اس کے علاوہ ان کے سکول کے یونیفارم کو پہلے سے تیار کر لیں تاکہ چھٹیوں کے اختتام پر آپ کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
بچے سکول میں لنچ باکس لے جانے میں بہت نخرے دکھاتے ہیں۔ انہیں روز کوئی نہ کوئی نئی ڈش لنچ میں چاہیے ہوتی ہے یہ آئے روز ماؤں سے اپنے من پسند کھانے کی فرمائش کرتے نظر آتے ہیں، جوکہ ان کے لئے ایک بڑی مشکل ہے کہ وہ ایسا کیا روز لنچ میں دیں کہ جسے نو نہال شوق اور رغبت سے کھائیں، ایسے میں بچوں کی ماؤں کو چاہیے کہ ابھی سے ایک لسٹ بنا لیں جن میں محتلف، صحت مند اور ہلکے پھلکے پکوانوں کے نام درج ہوں ۔
ایسی اشیاء کا چناؤ کریں جس میں چکنائی کی مقدار کم سے کم ہو اور غذائیت سے بھرپور ہوں۔ تلی ہوئی اشیاء ان کے نظام انہظام پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ہمرہ ایک پانی کی بوتل بھی دین جس میں گھر کا فلٹر یا ابلا ہوا پانی ہو۔
کیونکہ آپ کو نہیں معلوم کہ سکول میں کسی نوعیت کا پنی ترسیل ہو رہا ہے۔ لہٰذا اپنی تسلی کے لیے بچوں کے ساتھ پانی کی بوتل بھی بھیجیں۔ والدین سے مخاطب ہو کر یہ کہنا چاہتی ہوں کہ اگر آپ ان تمام امور کو پہلے سے نبٹا لیں گے تو بچوں کے سکول کھلنے پر آپ کو کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ نو نہالوں کو نصیحت ہے کہ ہنسی خوشی سکول جانے کی تیاری شروع کر دیں۔ یہ تعطیلات ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوئیں بلکہ یہ اگلے سال دوبارہ 90 دنوں کے لیئے آئیں گی۔

Your Thoughts and Comments