tarbiyat ki ashad zaroorat

Tarbiyat Ki Ashad Zaroorat

تربیت کی اشد ضرورت

بہت سے والدین ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی ہر ناجائز اور جائز خواہشات ان کے منہ سے نکلتے ہی پوری کر دیتے ہیں۔ اگر بچے کسی کو ماریں یا بدتمیزی کریں تو ان کو منع کرنے کی بجائے خوش ہوتے ہیں

اقراء خادم
بہت سے والدین ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی ہر ناجائز اور جائز خواہشات ان کے منہ سے نکلتے ہی پوری کر دیتے ہیں۔ اگر بچے کسی کو ماریں یا بدتمیزی کریں تو ان کو منع کرنے کی بجائے خوش ہوتے ہیں اگر بڑے بچوں کی لڑائی چھوٹے بچوں سے ہو جائے تو چھوٹوں کو سمجھانے کی بجائے بڑوں سے معافی منگواتے ہیں۔

ان حالات میں چھوٹے بچے بگڑ جاتے ہیں اور ان کے کردار کا حصہ بد تمیزی اور بداخلاقی بن جاتی ہے۔

والدین کو لگتا ہے کہ بچے ابھی چھوٹے ہیں بڑے ہوں گے تو ٹھیک ہو جائیں گے یا سکول جائیں گے تو سدھر جائیں گے ایسا ہرگز نہیں ہوتا کیونکہ یہ چیزیں ان کی فطرت اور شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں ہمیشہ کے لئے جو کبھی نہیں چھوٹتی اور جب بچے بالغ عمر میں پہنچتے ہیں تو ان کی عادتیں پختہ ہو جاتی ہیں اور پھر بچے گھر سے باہر بھی لوگوں سے بد اخلاقی سے پیش آنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔

(جاری ہے)

اس طرح بچوں کے ساتھ والدین کی عزت بھی خراب ہوتی ہے اور والدین کو انکی تربیت کے طعنے بھی ملتے ہیں پھر وہی والدین جو اپنے بچوں کی ان حرکتوں پر ان کے بچپن میں خوش ہوتے تھے۔ خون کے آنسو روتے ہیں۔

لہذا بچپن سے ہی بچوں کی تعلیم و تربیت شروع کر دینی چاہیے حوش سمبھا لتے ہی بچوں کو اچھے بڑے کی تمیز سکھائیں۔
صحیح غلط کی پہچان کروائیں اور جب بد تمیزی کریں یا بد اخلاقی سے پیش آئیں تو انہیں فوراً روکیں اور جہاں ہاتھ اٹھانے کی ضرورت پیش آئے وہاں بچوں کو مار کر بھی سمجھائیں تا کہ جب بچے بڑے ہوں تو آپکے لئے باعث فخر ہوں ناکہ باعث شرمندگی.

Your Thoughts and Comments