فاٹامیں کوئی ترقیاتی کام نہیں کئے گئے نہ ہی ابھی تک انتظامی اختیارات کی تقسیم واضح ہے،مولانا جمال الدین

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2019ء)جنوبی وزیرستان سے جے یو آئی (ف) کے رکن قومی اسمبلی مولانا جمال الدین نے کہا ہے کہ رائوانوارپرامریکی پابندی نقیب اللہ محسود شہیدکی فیملی کوانصاف دینے کا وعدہ کرنے والی عمرانی حکومت کیلئے باعث شرم ہے،انضمام کے بعدفاٹامیں ایک پیسہ کے بھی ترقیاتی کام نہیں کئے گئے نہ ہی ابھی تک انتظامی اختیارات کی تقسیم واضح کی گئی ، فاٹا مائنز ترمیمی بل حکومتی بددیانتی کا شاہکاراورہمارے خدشات کا آئینہ دار ہے،کراچی میں رہائش پذیرقبائل سے تعلق رکھنے والے شہریوں کودرپیش مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے دورے کے دوران ڈیرہ الجمعیة ماری پور میں جے یو آئی ضلع غربی کے ناظم مالیات نیک امان اللہ مسعودکی جانب سے دیئے گئے استقبالئے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پرجنوبی وزیرستان سے جے یو آئی (ف) کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی مولانا اعصام الدین قریشی،ضلعی امیر سابق رکن سندھ اسمبلی مولانا عمرصادق،جنرل سیکرٹری مولانا فخرالدین رازی،مولانا عنایت اللہ محسود،مفتی شاہ فیصل برکی،حافظ حبیب الرحمن خاطر،عبدالوحیدخان ،سیف اللہ محسود،مولاناملک امجد علی خان، مفتی انس محمودسمیت کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین موجود تھے۔

رکن قومی اسمبلی مولانا جمال الدین نے کہا کہ نقیب اللہ محسودشہیدسینکڑوںبے گناہ پاکستانیوں کا قاتل سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوارحکومت پاکستان کی آشیروادسے پاکستان میںدندناپھررہاہے جبکہ امریکی حکومت نے ماورائے عدالت قتل کی سینکڑوں وارداتوں میں ملوث ہونے پر راؤانوار پرپابندی عائد کردی ،جو اقدام حکومت پاکستان کو بہت پہلے کرنا چاہئے تھااس طرح کا اقدام امریکی حکومت نے ظاہری طورپر اٹھایاہے جونقیب اللہ محسود شہیدکی فیملی کوانصاف دینے کے بلندوبانگ دعوے اور وعدے کرنے والی عمرانی حکومت کیلئے باعث شرم ہے،انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے خیبرپختون خوا میںا نضمام کے بعدکوئی ترقیاتی کام نہیں کیا گیا جبکہ انتظامی اختیارات کی تقسیم بھی تاحال واضح نہیں کی گئی کہ فاٹا میں وزیراعظم کے احکامات چلیں گے یاوزیراعلیٰ یا چیف سیکرٹری کے آڈرمانے جائیں گے، ایک افراتفری ساماحول بنادیایاگیاہے جس سے قبائلی عوام بری طرح پریشان ہیں،فاٹامیںابتدائی ایام میںمیگا پروجیکٹ کے اعلانات کئے گئے مگرتاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں کی گئی، قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعدتاحال سیاسی، سماجی،ترقیاتی، معاشی انتظامی اور عدالتی نظام کے قیام کیلئے کوئی بھی موثر اقدامات نہیں اٹھایاگیا، حکومت کی طرف سے اعلان شدہ رقم یعنی 111 ارب روپے سالانہ کی مختص شدہ رقم تو دورماضی کے سالانہ مختص کردہ 21 ارب روپے کا 56 فیصد بھی ابھی تک دیئے گئے جس کی وجہ سے تمام انتظامی، ترقیاتی، سماجی بہبود، عدالتی نظام میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی، خیبرپختون خوا حکومت فاٹامیں موجود معدنی ذخائر کو ہڑپ کرنے کے درپے ہیں، صرف شمالی وزیرستان میں 36 ہزار ملین ٹن تانبے کے علاوہ سونا،چاندی،یورنیم، کرومائیٹ،گرینائیٹ،آئل اینڈ گیس اور ماربل کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں، اسی طرح جنوبی وزیرستان کے علاقوں سپین کمراورپریغال کی پہاڑیاں تانبے کے ذخائر سے مالا مال ہیں ، سرا خورہ میں کرومائیٹ اور نیلی کچھ میں کوئلے کے ذخائر موجودہیںمگرمعدنی ذخائر کے حوالے سے فاٹا صوبائی اراکین سے مشاورت اور اعتماد میں لے کر مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی بجائے صوبائی اسمبلی میں عجلت میں بل پاس کرکے ان ذخائر کو قبضے میں لے لیا جو ہمیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں،فاٹا مائنز ترمیمی بل حکومتی بددیانتی کا شاہکاراورقدرتی وسائل پر قبضے کے ہمارے پیشگی خدشات کا آئینہ دار ہے ، اس حوالے سے دیگر اپوزیشن ارکان کیساتھ مشاورت کے بعد مستقبل کیلئے لائحہ عمل طے کریں گے،قبائل کے بگڑتے حالات کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی بنانے کیلئے ہم نے حکومتی قبائلی ارکان سے رابطے کئے ہیں۔

مولانا جمال الدین نے کہاکہ کراچی کی تعمیروترقی میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراداور محنت کشوں کا کلیدی کردارہے،ہم کراچی میں ان کودرپیش مسائل حل کرنے کیلئے ہمیشہ سے کوشاں رہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments