فیشن برانڈ لوئی ویتون فروخت نہ ہونے والے بیگز کو جلا دیتا ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟

فیشن برانڈ لوئی ویتون فروخت نہ ہونے والے بیگز کو جلا دیتا ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟

ہفتہ مارچ 8:09 pm

لگژری برانڈز کی اشیاء خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ لوئی ویتون بھی ایسا ہی لگژری برانڈ ہے۔اس کے بنائے ہوئے بیگز انتہائی مہنگے ہوتے ہیں۔ایک عام آدمی کو یہ بیگ خریدنے کےلیے شاید پورے ماہ کی تنخواہ خرچ کرنی پڑے۔ آپ کو یہ سن کر حیرانی ہوگی کہ لوئی ویتون ہر سال اپنے فروخت نہ ہونے والے بیگز جلا دیتی ہے۔
اگر آپ سوچتے ہیں کہ نہ فروخت ہونے بیگز جلانے کی بجائے لوئی ویتون کو اپنے بیگ رعایتی قیمت پر فروخت کے رقم عطیہ کر دینی چاہیے تو  ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔

لوئی ویتون  نہیں چاہتا کہ کم آمدنی والے ان کا بیگ خریدیں۔ یعنی لوئی ویتون  امیر کبیر افراد کو ہی اپنے خریداروں میں شامل رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے وہ نہ فروخت ہونے والے بیگز جلا دیتا ہے تاکہ ایک خاص کلاس ہی اس کے بیگ استعمال کرے۔

(خبر جاری ہے)


فروخت نہ ہونے والے بیگز جلانے کی دوسری وجہ ٹیکس کی ادا کی ہوئی رقم کی واپسی ہے۔ امریکی ڈیوٹی ڈرا بیک قانون کے

خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

تحت جو بھی چیز امریکا میں امپورٹ کی جاتی ہے، اس پر ٹیکس دیا جاتا ہے۔

لگژری آئٹمز پر ٹیکس بھی زیادہ ہوتا ہے۔ کسٹم کے نوٹی فیکیشن کے مطابق   نہ فروخت ہونے والے بیگ جلا کر لوئی ویتون کو ادا شدہ 15 سے 20 فیصد ٹیکس واپس مل جاتا ہے۔ یعنی بیگز جلانے سے بھی لوئی ویتون کا نقصان کچھ حد تک کم ہو جاتا ہے۔
لوئی ویتون نے آج تک اپنے نہ فروخت ہونے والے بیگز کو جلانے کی تصدیق نہیں کی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک کمپنی نہ فروخت ہونے والے بیگز اپنے ملازمین کو فروخت کر دیا کرتی تھی مگر پھر جلانے لگی۔