بند کریں
خواتین مضامینابتدائی طبی امدادنچلے جبڑے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا

مزید ابتدائی طبی امداد

- مزید مضامین
نچلے جبڑے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا
اس کے ساتھ دانت بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور خون آلودہ تھوک خارج ہوتا ہے جبڑئے کو ہلانے یا منہ کھولنے کی کوشش کرنے پر شدید درد ہوتا ہے
نچلے جبڑے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا:
جبڑئے کی ہڈی کا ٹوٹنا اکثر کسر مرکب ہوتا ہے اور اس کے ساتھ دانت بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور خون آلودہ تھوک خارج ہوتا ہے جبڑئے کو ہلانے یا منہ کھولنے کی کوشش کرنے پر شدید درد ہوتا ہے قدرت نے جبڑے پر لگے ہوئے عضلات یعنی پٹھے کچھ اس طرح لگاتے ہیں کہ جبڑے کے ٹوٹ جانے پر بھی اس کی ہڈی کے حصے ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہو نے پاتے اس لیے اس پر کسی قسم کی پٹی باندھنے کی ضرورت نہ ہوگی چنانچہ فوری امداد کی ضرورت صرف اسی وقت پیش آئے گی جب:
۱۔جبڑا دونوں طرف سے ٹوٹ گیا ہو اسی صورت میں جبڑے کا درمیانی حصہ جس کے ساتھ زبان لگی ہوتی ہے پیچھے کی طرف جاگرتی ہے اور سانس لینے والی نالی کے منہ کو بند کردیتی ہے،
۲۔جب زبان یا رخسار کی خون کی نالیوں میں سے ایک زخمی ہوگئی ہو اس لیے اس حالت میں امداد کا مقصد یہ ہوگا کہ سانس کی آمدورفت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہونے پائے چنانچہ اپنی شہادت کی انگلی کو مجروح کے منہ میں ڈال کر اسے سامنے کے نچلے دانتوں کے پیچھے اس طرح لے جائیں کہ وہ ایک آنکڑے کی صورت میں ہو اور پھر اسے سامنے کی طرف کھینچیں اگر ضرورت ہو تو زبان کو ایک رومال کے ذریعے پکڑے رکھیں اور اسے باہر کی طرف کھینچیں۔اگر کسی مقام سے جریان خون ہو رہا ہو تو اسے بند کرنے کی کوشش کریں۔
۳۔اسے ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کریں چنانچہ اگر مجروح ہوش میں ہو تو اسے کرسی پر اس طرح بٹھا کر روانہ کریں کہ مجروح قدرے اگے کو جھکا ہوا ہواور اسے ایک پیک دان بھی مہیا کرکے دیں اگر مجروح بے ہوش ہے تو اسے ہسپتال بھیجنے کا انتظام اسی طریقے پر کریں جو ایک بے ہوش کے لیے کیا جاتا ہے تمام راستے مجروح کو دیکھتے رہیں کہ اس کا سانس کہیں بند نہ ہونے لگے،
ریڑھ کی ہڈی کا ٹوٹ جانا:
اس ہڈی کا ٹوٹ جانا بے حد خطرناک ہوتا ہے او ر عام طور پر اس کے اسباب یہ ہوتے ہیں۔
۱۔پانی کے ایک ایسے تالاب میں بڑی اونچائی سے ڈبکی لگا نا جس میں پانی کی مقدار بہت کم ہو۔
۲۔بہت بلندی سے گر پڑنا پیٹھ،چوتڑوں یا پاؤں کے بل نیچے گرنا۔
۳۔پیٹھ پر کسی بھاری بوجھ کا گرپڑنا۔
۴۔سر کے بل یا پیچھے سے کسی دوسری شے کے ساتھ ٹکر ہونا۔
۵۔موٹر سائیکل یا سکوٹر وغیرہ سے گر پڑنا جب کہ وہ بہت تیز رفتار سے چلایا جارہا ہو۔
طبعی طور پر ریڑھ کی ہڈی اپنے اندر رہنے والے حرام مغز(نخاع) کی حفاظت کرتی ہے اور جب یہ ہڈی ٹوٹ جاتی ہے تو جسم کا کوئی ایک حصہ مستقل طور پر شامل ہوجائے گا حرام مغز کا کوئی بھی حصہ جب ایک دفعہ زخمی ہوجائے تو پھر وہ کبھی بھی دوبارہ نہیں بن سکتا اس لیے اس قسم کے مجروح کے ساتھ بڑی احتیاط سے پیش آئیں اور کوئی ایسی حرکت ہر گز نہ کریں جو زائد یا غیر ضروری ہو۔
ریڑھ کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کیسے پہچانی جائے: مجروح کا رنگ بالکل زرد ہوگا وہ بڑا بے چین اور مضطرب ہوگا اور اس مقام پر درد کی شکایت کرے گا جہاں سے ہڈی ٹوٹ گئی ہے اگر اس ہڈی کو کچھ زیادہ نقصان پہنچ گیا ہوگا تو وہ بے ہوش ہوگا اور اگر حرام مغز کے اس حصے کو نقصان پہنچ گیا ہے جو گردن میں ہے تو وہ دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں بے حس و حرکت ہوچکی ہوں گی نیز وہ کسی قسم کی حرکات کے قابل نہ ہوگا اور سانس لینے میں بھی وہ بڑی دقت محسوس کرتا ہوگا۔اگر حرام مغز کا کمر والا حصہ مجروح ہوا ہے تو پھر صرف دونوں ٹانگیں بے حس و حرکت ہوں گی مجروح کا پیشاپ اور پاخانہ بے اختیار نکل جاتا ہے۔اگر آپ کو شک ہوجائے کہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے تو مجروح کو سختی سے ہدایت کریں کہ وہ کسی قسم کی حرکت نہ کرے مجروح کو بڑی احتیاط سے اٹھا کر سٹریچر پر لٹادیں اسے بالکل سیدھا اور سخت رکھیں اور اس کی پیٹھ کا کوئی حصہ ہرگز جھکنے نہ دیں۔
فوری امداد: کم از کم چار مددگار ضرور درکار ہوں گے ایسے مجروح کو احتیاط کے ساتھ اٹھانے اور لے جانے پر اس کے مکمل طور پر صحت یاب ہوجانے یا باقی ساری زندگی میں شامل ہوکر بڑے رہنا منحصر ہوگا اس لیے مجروح کو جس قسم کی بھی حرکت دیں وہ بڑی احتیاط نرمی لیکن مضبوطی دینی چاہیے اگر یہ شرئط پورنی نہیں ہو رہیں تو کسی ماہر کے آنے کا انتظار کیا جائے ایک مناسب وقت میں ایسی امداد کے پہنچ جانے کا کوئی امکان نہ ہو تو مجروح کی دونوں رانوں گھٹنوں اور ٹخنوں کے درمیان مناسب تکیے اور گدیاں رکھ دیں تاکہ وہ بے جا حرکت نہ کرسکیں پاؤں اور ٹخنوں کے اردگرد ہندسہ8 کی شکل پر پٹی لپیٹیں پھر سٹریچر کے ان مقامات پر بھی مناسب حجم کی گدیاں رکھ دیں جہاں پر مجروح کو لٹانے سے اس کی گردن اور کمر کے نیچے خالی جگہ باقی رہے گی البتہ مجروح کے سر کے نیچے تکیہ نہ رکھیں مجروح کو سٹریچر پر لٹانے کی غرض سے اٹھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے ایک مضبوط کمبل پر لٹا کر اٹھایا جائے پہلے مجروح کو ایک پہلو پر لے جائیں اور نصف کمبل کو گول لپیٹ کر اس کے پیچھے ٹھونس دیں اب مجروح کو نہایت نرمی سے پھر سیدھا لٹا دیں اب کمبل کے کناروں کو مجروح کے دونوں پہلوؤں پر آسانی سے گول لپیٹا جاسکتا ہے پھر مددگاروں کی امداد سے مجروح کو کمبل پر ذرا اونچا اٹھائیں لیکن اس طرح کہ اس کا جسم کہیں سے لٹکنے نہ پائے اور نہ ہی کسی مقام پر بل کھائے اس کے ساتھ ہی اگر پاؤں اور سرکو کھینچ کر رکھا جائے تو مجروح کا جسم بالکل سیدھا رہ سکے گا سٹریچر کو کسی مددگار کی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے مجروح کے نیچے کی طرف سر کا دیں اور پھر مجروح کو اس پر لٹا کر ہسپتال لے جائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے