Qurratulain Hyder

قراۃالعین حیدر

قرةالعین حیدر 20جنوری 1928کو علی گڑھ اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ان کا نام ایک مشہور ایرانی شاعرہ قرةالعین طاہرہ کی نسبت سے رکھا گیا۔قرةالعین حیدر نے 21اگست 2007میں وفات پائی اس وقت ان کی عمر80برس تھی۔قرة العین کی وجہء شہرت ان کا منفرد طرزِ بیاں تھا۔ان کے ناول آگ کے دریا کو بہت شہرت ملی۔یہ ناول 1959میں شائع ہوا۔ قرةالعین کوان کے افسانے "پت جھڑ کی آواز"کے لئے1967میں "ساہیتیاایوارڈ"سے نوازا گیا۔1989میں جنان پتھ ایوارڈان کی کتاب "آخرِ شب کے ہمسفر" 2005 میں"پدما بھوشن"کے علاہ انہیں لا تعداد ایوارڈز سے نوازا گیا۔آپ نے 1947میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کی مگر کچھ سالوں بعداور پھر ہمیشہ وہیں رہیں۔ قرة العین پیشے کے لحاظ سے ایک صحافی تھیں مگر ساتھ ساتھ انہوں نے افسانے اور کہانیاں لکھنا نہیں چھوڑیں اور باقاعدگی سے لکھتی رہیں۔ان کی کتابوں کے ترجمے انگریزی کیے علاوہ مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔آپ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا،،شکاگو وسکنسن،اور ایرزونا میں بطور مہمان لیکچرار بھی رہیں۔ قرةالعین حیدر یونیورسٹی آف علی گڑھ میں وزیٹنگ پروفیسر بھی رہیں جہاں ان کے والد کبھی ایک رجسٹرار تھے۔آپ نے11برس کی عمر سے لکھنا شروع کیا۔ آپ کے قریباً12ناولز اور افسانوں کے 4مجموعے شائع ہوئے۔قرة العین نے غیر ملکی زبانوں پر مشتمل کتابوں کے ترجمے کرنے میں بھی نمایاں کام سر انجام دیا۔ ان کی مشہور کتابوں میں"آگ کا دریا،آخرِ شب کے ہمسفر،میرے بھی صنم خانے ،سفینئہ غمِ دل،پت جھڑ کی آواز ،روشنی کی رفتار،چائے کے باغ،دلربا،سیتا ہرن، اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیئو،کارِ جہاں دراز ہے" شامل ہیں۔

NameQurratulain Hyder
Urdu Nameقراۃالعین حیدر
GenderFemale
More Adab Writers and Urdu Poets