بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

بدکار ظالم پر لعنت ہمیشہ برستی رہتی ہے

"حکایات" میں شائع کیا گیا

جتنا گڑ ڈالو گے اتنا ہی میٹھا ہوگا

کلو حلوائی نے بڑی محنت سے ایک خوبصورت دکان تیار کروائی ۔اس سے پہلے وہ ایک بہت چھوٹی سی دکان پر مٹھائیاں فروخت کرتا تھا مگر جب اللہ نے اسے پیسہ دیا تو اس نے ایک خوبصورت دکان تیار کرانے کے لیے سارا پیسہ لگادیا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

اگلے وقتوں کے ہیں ہم لوگ ہمیں کچھ نہ کہو

ہمارے دنوں میں حساب وہ واحد مضمون تھا جس میں کل نمبر آنے کی توقع کی جا سکتی تھی، باقی مضامین کے لئے انحصار ممتحن کی فیاضی یا ممتحن کے اس روز کے گھر کے ماحول پر ہوتا تھا

"مضمون" میں شائع کیا گیا

اللہ عزوجل سب پر حاوی ہے

اللہ عزوجل کے فعل اور ہمارے فعل دونوں کو دیکھ ہمارے فعل کو موجود سمجھ کیونکہ اگر مخلوق کا فعل موجود نہ ہوتو ہم کسی کو کیوں کہیں کہ تو نے ایسے کیوں کیا؟اللہ عزوجل کی آفرنیشن ہمارے افعال کی موجد ہے لیکن ہمارا یہ فعل ہمارے اختیار میں ہے لیکن ان کی جزاء کبھی سانپ ہے اور کبھی دوست کیونکہ بولنے والا یا لفظوں کو دیکھتا ہے یا مطلب کو دیکھتا ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

آسمان پر چڑھا کے اتارنا

سیٹھ وقار کی حویلی میں کئی نوکر چاکر تھے مگر عزیز تمام ملازموں میں سیٹھ وقار کا چہیتا ملازم تھا۔ عزیز واقعی سیٹھ وقار کو بڑا عزیز تھا۔ سیٹھ وقار نے تمام ملازموں کا ہیڈ عزیز کو بنا رکھا تھا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

بھلوال سے واخننگن قسط 9 ۔۔۔۔۔۔ ہم کسی سے کم نہیں

میرے گیسٹ روم سے منسلک غسل خانے سے اس جانب ہونے والی مشکوک سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جا سکتا تھا اور یہی ہوا۔ میری بے غم کمرے کی صفائی کروا رہی تھی کہ میرا نام سن کر اس کے کان کھڑے ہوئے

"سفر نامہ" میں شائع کیا گیا

اونٹ دیکھیے کس کروٹ بیٹھتا ہے

موسم صبح سے ہی اَبر آلود تھا۔آسمان پر ہر طرف بادل چھائے ہوئے تھے اور ادھر جنید پر مایوسی چھائی ہوئی تھی اس لیے کہ آج اس کی ٹیم کا کرکٹ میچ ہونا تھا اور چونکہ اس کی ٹیم بہت اچھی تھی اس لیے اسے یقین تھا کہ وہ یہ میچ ضرور جیتے گا مگر بارش کے امکانات کے باعث میچ ہونا مشکل نظر آرہا تھا یہی وجہ تھی کہ جنید اداس بیٹھا تھا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

اندھا راج چوپٹ نگری

بہت زمانے پہلے کی بات ہے کسی ملک میں بادشاہ حکومت کرتا تھا۔بادشاہ کی صرف ایک ہی اولاد تھی جس کانام تھا شہزادہ سلطان، شہزادہ سلطان اپنی ریاست کے انتظامات اور لوگوں کی فلاح و بہود کے کاموں میں ذرا بھی دل چسپی نہیں لیتا تھا جبکہ بادشاہ کی خواہش تھی کہ وہ امور مملکت کی سمجھ بوجھ رکھے اور رعایا کے ہر طرح سے کام آئے۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

بھلوال سے واخننگن قسط 8 ۔۔۔۔۔۔ رنگوں کے ساتھ ساتھ

جتنا نظم ہم نے وہاں کی فریزیئن گایوں میں پایا اس سے کہیں کم ہمارے انسانوں میں ہوتا تو ہم بھی آج ایک منظم قوم کہلانے کے حقدار ہوتے

"سفر نامہ" میں شائع کیا گیا

اللہ عزوجل کی حمدو ثناء

اولیا ء اللہ پر موت کی ہوا باغِ نسیم کی طرح نرم اور خوشگوار ہوتی ہے۔آگ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تکلیف نہیں پہنچائی کیونکہ جب بندہ اللہ عزوجل کا برگزیدہ ہوجائے تو وہ کیونکر تکلیف پہنچائے گا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی

عمیر اپنے گھروالوں کے ساتھ اپنی خالہ کے گھر کچھ دن رہنے کے لئے گیا۔اس کی خالہ شہر سے دور ایک گاؤں میں رہتی تھیں۔جس گاؤں میں اس کی خالہ رہتی تھیں وہاں بہت سے بندر بھی تھے جو پورے گاؤں میں خوب شرارتیں کرتے پھرتے تھے،کبھی کسی کی کوئی چیز چھین کر بھاگ جاتے تو کبھی کسی کو منہ چڑاتے اور نقل اتارتے۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

بلی کے خواب میں چھیچھڑے

ناصرآج بہت خوش تھا۔اس کے بھائی آج امریکا سے آرہے تھے اور ناصر نے اپنے بھائی سے بیٹری سے چلنے والی ایک کھلونا کار منگوائی تھی۔ناصر اپنے ابو کے ساتھ اپنے بھائی کو لینے ائیر پورٹ جارہاتھا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

نادان لڑکے جیسی حالت

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک بچے کو کلہاڑی دی اور اسے تاکید کی کہ اس سے لکڑیاں کاٹے ۔لڑکے نے کلہاڑی پکڑی اور مسجد کی دیوار کھودنا شروع کردی۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

بھلوال سے واخننگن قسط 7 ۔۔۔۔۔۔۔ پیرس 420 کلومیٹر

یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ہم ہالینڈ آئیں، شنگن ویزہ ہمہ وقت جیب میں ہو اور ہم خوابوں کو تعبیر ہوتا دیکھے بغیر واپس چلے جائیں۔ بیلجیئم خود دیکھ آئے، لکسمبرگ کورس والے لے گئے، جرمنی میں کولون کا میلہ لوٹ لیا، فرینکفرٹ تک گھوم آئے، مگر پیرس اب بھی خواب ایسا تھا

"سفر نامہ" میں شائع کیا گیا

چراغ سے چراغ جلے

سعد نے ایک مرتبہ کبھی کسی رسالہ میں ایک واقعہ پڑھا تھا جس میں ایک ضعیف عورت صبح نماز کے بعد کوڑے سے اخبار کے ٹکرے اکٹھے کرتی تھی۔جب کسی نے پوچھا تو اُس نے جواب دیا کہ میں اخبار کے وہ ٹکرے اکھٹے کر رہی ہوں جن پر اللہ اور اُسکے رسولﷺ کا نام لکھا ہواور توکچھ کر نہیں سکتی لیکن یہ کام تو کرسکتی ہوں،کیا معلوم اللہ اس سے خوش ہو کر میری بخشش کردے۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

اپنے دل سے انکار و بدگمانی کو دور کردو

اے میرے عزیز!حضور نبی کریم ﷺ کے فرمان کو غور سے سنو اور اپنے دل سے انکار وبدگمانی کو دور کردو۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بہار کی سردی یعنی مرشد کامل کی صحبت سے جسم کو ڈھانپنے کی کوشش مت کرو کیونکہ وہ تمہاری جانوں کے ساتھ وہی کرتی ہے جو موسم بہار درختوں کے ساتھ کرتی ہے یعنی ان کو نئی زندگی دیتی ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

دکھی دلوں کو خوش کرنا ہزار رکعت نماز سے افضل ہے

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا ایک نیک بندہ حج بیت اللہ کی سعادت کے لئے اس شان سے روانہ ہوا کہ ہر قدم پر دو رکعت نماز ادا کرتا تھا۔اس کے شوق کا یہ عالم تھا کہ راستہ کی تکالیف سے اسے راحت ملتی اورراستہ کے کانٹے بھی اسے پھول محسوس ہوتے تھے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

علم و ہنر سیکھا ہوا کتا بھی عارفِ حال ہوتا ہے

علم و ہنر سیکھا ہوا کتا بھی عارفِ حال ہوتا ہے اور اصحاب کہف میں شمار ہوتا ہے۔قلبی بصیرت اگر حاصل نہ ہوتو پھر اندھا ہی کہلائے گا۔زمین بھی اپنے دشمن کو پہچانتی ہے تبھی تو حضرت نوح علیہ السلام کے حکم پر پانی کو نگل لیتی ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

بھلوال سے واخننگن قسط 6 ۔۔۔۔انا کی انا

وہ ماسی مارگریٹ سے کھب کھاتی تھی اور سہمی ہوئی چڑیا کی طرح چھپنے کے لئے ادھر ادھر بھٹکتی رہتی۔ وہ دو تین دن کے لئے آتی، ہمیں اپنی میزبانی سے نوازتی، وطن کی یاد دلا جاتی اور ہم اس کی اگلی آمد کے انتظار کا لطف اٹھاتے

"سفر نامہ" میں شائع کیا گیا

نام احمد (ﷺ)ایک مضبوط قلعہ

حضرت محمدمصطفیﷺ کانام مبارک انجیل میں بھی موجود تھا جو انبیاء کرام علیہ السلام کے سردار اور صفاء سمندر ہیں۔ان کے حلیہ اور شکل مبارک کا ذکر بھی انجیل میں موجود تھا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا