بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

ڈائن بھی دس گھر چھوڑ کر کھاتی ہے

”چور․․․ چور․․․ چور․․ ․․ کی آوازیں لگاتے ہوئے لوگ ایک شخص کے پیچھے بھاگ رہے تھے جو محلے کے کسی گھر میں چوری کرکے بھاگا تھا۔ چور کا پیچھا کرنے والوں نے جلد ہی اس بھاگنے والے شخص کوپکڑ لیا وہ شخص اپنا چہرہ کپڑے میں چھپائے ہوئے تھا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

راج نگر

ان لوگوں کو راج نگر سے باہر نکال دیا گیا تھا اب وہ لوگ راج نگر بستی سے تقریباََ ایک میل کے فاصلے پر آباد ہونا شروع ہوگئے۔ ایک نئی بستی بسالی گئی۔ راج نگر سے عورتیں ہر روز کالے برقعے میں اپنے اڈے پر پہنچتی اور رات گئے تک وہاں رہتیں۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

ادبی صحافت کی بقاء اور ترقی

اردو زبان کے فروغ و ترقی میں اور اس کی ترویج و اشاعت میں ادبی رسائل وجرائد کا کلیدی رول رہا ہے۔ اخبارات نے بھی اردو زبان و ادب کو فروغ عطا کیا ان کے علاوہ اردو زبان و ادب کو فروغ تخلیقی اعتبار سے بھی ہوا، مختلف ادیبوں وشعراء نے نہ صرف زبان کے گیسو سنوارے بلکہ ادب کو ترقی عطا کی ہے۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

اشفاق احمد - اردو ادب

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی بھی شخصیت کا مطالعہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ظاہری وباطنی دنیاؤں کا مطالعہ کیا جائے کیونکہ شخصیت کی تعمیر میں جہاں جبلی اور فطری عناصر کارفرما ہوتے ہیں ، وہیں خاندانی خصائص اور اردگرد کے ماحول کا بھی بڑا حصہ ہوتا ہے۔

"اردو ادب" میں شائع کیا گیا

پیاس

بی بی جی باہر ایک بوڑھا آدمی آیا ہے وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے چوکیدار نے مجھے کہاتو میں خود ہی گیٹ تک چلی آئی باہر ایک ستر سالہ بوڑھا کھڑا تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا بی بی جی آپ مجھے مالی رکھ لیں میں آپ کے لان کو ہرا بھرا کردوں گا۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

چند دن امیلڈا کے دیس میں قسط سوئم ۔۔۔ مَلاتے میں پھجے کے پایوں اور پان کی تلاش

دروازہ کھلنے سے تیز موسیقی میں گھُلا ایک بھبکا باہر نکلتا اور ڈاکٹر اِوامی اس کی جگہ لینے اندر جا پہنچتا

"سفر نامہ" میں شائع کیا گیا

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے

بس میں بھیڑ اس قدر تھی کہ ذیشان باوجود کوشش کے بس میں نہیں بیٹھ سکا۔ اسے اسکول جانے کے لیے دیر ہورہی تھی بس میں وہ بیٹھ نہیں سکا جس کا اسے بڑا دکھ تھا۔ وہ پیدل ہی اسکول کی جانب روانہ ہوگیا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

خاصان ِ خدا کا حال

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اپنی سیاحت کے دوران کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسے بزرگ کے ہمراہ سفر کررہا تھا کہ خشکی کا سفر ختم ہوا اور دریا کا سفر شروع ہوگیا تو میں کرایہ دے کر کشتی پر سوار ہوگیا ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

دو پراٹھے

ابونصرالصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت وافلاس کی زندگی بسر کررہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور ہلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جارہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا،

"مضمون" میں شائع کیا گیا

درویشوں کی خدمت کا صلہ

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عادل اور خدا ترس بادشاہ اپنی رعایا کے حالات سے آگاہی کے لئے رات کو بھیس بدل کر گشت کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ ایک مسجد کے پاس سے گزرا تو اس نے دو درویشوں کو دیکھا جوسرری میں کانپ رہے تھے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اپنا پیٹ تو کُتا بھی پالتا ہے

گاؤں چندرپور کے لوگ گاؤں کے چوہدری سے بڑے پریشان تھے۔ چوہدری کو صرف اپنی جیب بھرنے کا خیال رہتا وہ گاؤں کے لوگوں کی ذرابھی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ ہی ان کے دکھ سکھ میں کام آتا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

چند دن امیلڈا کے دیس میں قسط دوئم ۔۔۔۔ علی، امیلڈا، رِزال پارک اور پادری

سنجے کے سامنے پیتل کی کٹوریوں میں اور ہم ملیچھوں کے سامنے کیلے کے پتے پر کھانا پروسا گیا تو ہمیں اپنی اوقات کا پتہ چلا

"سفر نامہ" میں شائع کیا گیا

ساحل

پُتر امریکہ ہم سے سو سال آگے نہیں بلکہ چودہ سو سال پیچھے ہے۔ اور یاد رکھو! اگرچہ سمندر میں بے شمار فوائد ہیں مگر سلامتی صرف ساحل ہی پر ہے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

یار زِندہ صُحبتَ باقی

بُڑے دن ہوگئے بھئی تمہیں دیکھے ہوئے“۔ممتاز نے اپنے دوست ظفر کو مارکیٹ میں اچانک دیکھ کر کہا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

اپنے وقار اور مرتبہ پر قائم رہ

"حکایات" میں شائع کیا گیا

دل کو دل سے راہ ہوتی ہے

احسن اور حسن دونوں بھائی تھے اور دونوں میں بڑی محبت تھی۔ احسن اور حسن کے پاپا دونوں بھائیوں کو روزانہ جیب خرچ کے طور پر پانچ پانچ روپے دیا کرتے۔ احسن اور حسن ان پانچ میں سے تین روپے خرچ کر لیتے اور دو روپے ایک صراحی میں جمع کرلیتے تھے۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

میلی بنیان

یہ مائیں بھی کتنی ظالم ہوتی ہیں، محبت کا ایک معیار قائم کرکے اور اولاد کو اِن کا عادی بنا کر خود مٹی کا کمبل اوڑھ کر کبھی نہ جاگنے کے لیے سو جاتی ہیں

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

سانپ کا کاٹا پانی نہیں مانگتا

عامر جلدی جلدی اپنے گھر کی طرف جارہا تھا۔ رات کا وقت تھا اور بارش بھی بہت زور دار ہورہی تھی۔ عامر کے گھر کے راستے میں کچھ جھاڑیاں بھی تھی۔ عامر خاص طور پر ان جھاڑیوں سے بچنے کی کوشش کررہا تھا کیوں کہ اس نے سن رکھا تھا کہ جھاڑیوں میں سانپ ہوتے ہیں اس لئے وہ بہت احتیاط کررہا تھا۔

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

عاجزی کا تکبر

میں نے ایک گڑھا کھودا اور اس سلگتے سوال کو بھی دفن کر دیا جو میرے آگہی کے آتش دان میں بے گوروکفن پڑا تھا۔ شاید جواب کا پل صراط پار ہو چکا تھا

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

چند دن امیلڈا کے دیس میں قسط اول

وہاں جا کر مجھے یقین آ گیا ہے کہ اللہ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیمبر ضرور وہاں مبعوث کئے ہوں گے۔ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ پیمبری پر مہر نہ لگی ہوتی تو اب بھی وہاں اتنے ہی مزید پیمبروں کی گنجائش ہے۔

"سفر نامہ" میں شائع کیا گیا