بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

فطرت

کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا۔ ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا۔ بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مذید اُلجھ گیا۔ اسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سے خون رسنے لگا۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

چار درہم اور چار دعائیں

ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دور رہتا تھا،ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے ،وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ

"مضمون" میں شائع کیا گیا

قدرت کا ملہ کا منظر

ایک جہاز سمندر میں اپنے سفر پر رواں دواں تھا ۔ مسافر بڑے اطمینان سے بیٹھے سفر کررہے تھے ۔ اچانک سمندر میں طوفانی ہوائیں چلنا شروع ہوگئیں ، یہاں تک کہ جہاز کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ۔ ہر طرف چیخ وپکار پڑگئی ۔ لوگ ادھر اُدھر اپنی جان بچانے کے لئے بھاگنے لگے ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

یہ دولت کیسے ملی

سلطان بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں رات کا وقت تھا ماں نے پانی مانگا۔ مٹی کے کوزے میں پانی لے کر ابھی ماں کی چار پائی کے پاس پہنچا ہی تھا کہ ماں کی آنکھ لگ گئی۔ اب کیا کرتا۔ سوچا کہ ماں کو بیدار کر کے پانی پلا دوں پھر خیال آیا کہ اس کی نیند خراب ہو گی کتنی بے چینی کے بعد تو اس کی آنکھ لگی ہے ۔ سردی سخت تھی باہر برف باری ہو رہی تھی میرے بدن پر کپکپی طاری ہو گئی دل میں آیا کہ بستر میں جا کر سو جاوٴں مگر پھر خیال آیا کہ شاید ماں دوبارہ پانی مانگے اور میں وقت پر اس کے پاس نہ پہنچ سکوں۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

ماں کا حساب

ایک بیٹا پڑھ لکھ کر بہت بڑا آدمی بن گیا ” والد کی وفات کے بعد ماں نے ہر طرح کا کام کر کے اسے اس قابل بنا دیا تھا ” شادی کے بعد بیوی کو ماں سے شکایت رہنے لگی کہ وہ ان کے اسٹیٹس میں فٹ نہیں ہے لوگوں کو بتانے میں انہیں حجاب ہوتا کہ

"مضمون" میں شائع کیا گیا

بادشاہ کا خواب

ایک بادشاہ نے خواب دیکھا ۔ اس نے خواب دیکھا کہ اس کا خو بصورت اور نوجوان بیٹا اچانک موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔ بادشاہ کے لئے یہ قیامت کی گھڑی تھی۔ وہ رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا اور غم سے اس کا کلیجہ پھٹنے ہی والا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ بیدار ہونے کے بعد بادشاہ اس سوچ کا شکار ہوا کہ خدانخواستہ کہیں خواب سچ ثابت نہ ہو جائے اور اگر خدانخواستہ میرا بیٹا موت کے منہ میں چلا گیا تو اس کی کوئی نہ کوئی نشانی تو موجود ہونی چاہیے ۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

اللہ کی بہتری

"مضمون" میں شائع کیا گیا

نالائق شاگرد

ایک شخص کشتی لڑنے کے فن میں مشہور تھا وہ تین سو ساٹھ داؤ پیچ جانتا تھا اور ہر روز ان میں سے ایک داؤ کیساتھ کشتی لڑتا تھا۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

فقیر کی بیوی

ایک بدو فقیر کی بیوی نے ایک شب اس سے کہا کہ ساری دنیا غنی ہے اور ہم محتاج ہیں اور افلاس کی سختی کا شکار ہیں۔ ہم کھانے پینے سے عاجز ہیں، پہننے سے عاجز ہیں، پیٹ بھرنے سے عاجز ہیں،

"مضمون" میں شائع کیا گیا

اچھا مشورہ

ملک کے مصر کے شہر اسکندریہ میں ایک بار بہت سخت قحط پڑا ۔ کافی عرصہ سے بارش نہیں ہوئی تھی، اس لئے زمین جھلس کررہ گئی تھی ۔ فصلیں برباد ہوگئی تھیں ، لوگ پانی کے ایک گھونٹ اور روٹی کے نوالہ کے لئے ترس رہے تھے ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

زندہ قیدی

رائے پتھورا (پرتھوی راج ) نے اجمیر کو اپنا دارلسلطنت بنایا ہوا تھا ۔ ایک وقت آیا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے اجمیر شریف کو اپنا ٹھکانہ بنالیا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

ناداروں کی امداد

سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ایک دفعہ سفر حج پر روانہ ہوئے ۔ سفر کی منزلیں طے کرتے ہوئے آپ حلا کے قصبہ میں پہنچے اور وہیں شب باشی کا ارادہ ظاہر فرمایا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

عقل مند سیاح

سیاحوں کی ایک جماعت سفر پر روانہ ہورہی تھی ۔ حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ خواہش ظاہر کی کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو۔ انہوں نے انکار کیا۔ میں نے انہیں یقین دلایا میں آپ حضرات کے لیے مصیبت اور پریشانی کا باعث نہ بنوں گا بلکہ جہاں تک ہوسکے گا خدمت کروں گا لیکن وہ پھر بھی رضا مند نہ ہوئے ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

کامیابی کا راستہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، ایک بادشاہ کو تحفے میں 2باز ملے اس نے اتنے خوبصورت پرندے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے بادشاہ نے دونوں پرندے اپنے ملازم کو دیئے تاکہ وہ ان کی تربیت کرے ۔ ایک دن ملازم نے بادشاہ کو بتایا کہ ایک باز اونچی اڑان اڑرہا ہے لیکن

"مضمون" میں شائع کیا گیا

ادب

ایک بار جناب بہلول دانا کسی نخلستان میں تشریف فرما تھے ایک تاجر کا وہاں سے گزر ہوا۔ وہ آپ کے پاس آیا سلام کرکے سامنے بیٹھ گیا اور انتہائی ادب سے گزارش کی حضور تجارت کی کونسی ایسی جنس خریدوں جس سے بہت فائدہ ہو

"مضمون" میں شائع کیا گیا

بادشاہ کا فیصلہ

کسی جنگل بیابان میں ایک غریب آدمی گدھا کیچڑ میں پھنس گیا ۔ ایک تو جنگل ، دوسرا موسم بہت خراب ، سردی کے موسم میں تیز ہوا چل رہی تھی اور بارش ہو رہی تھی ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

رعایا پروری

ایک دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بڑا سخت قحط پڑا۔ آپ کی خدمت میں کچھ لوگ آئے اور اپنا ایک نمائندہ ساتھ لائے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

کنجوس امیر

ایک شخص بہت امیر تھا لیکن تھا بہت کنجوس مکھی چو س ایسا کہ نہ اپنے اوپر خرش کرتا تھا نہ اپنے بال بچوں پر، گویا مال جمع کرنے کی ہوس نے اسے اپنا قیدی بنالیا تھا اور روپیہ پیسہ اس کی قید میں پھنس کر رہ گیا تھا جس کی رہائی کی کوئی صورت نہ تھی ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

جعلی چٹھی کا سبب

کہتے ہیں یحییٰ بن خالد برمکی اور عبداللہ مالک خزاعی کے درمیان پوشیدہ دشمنی تھی جسے وہ ظاہر نہ کرتے تھے وجہ یہ تھی کہ خلیفہ ہارون الرشید عبداللہ بن مالک کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا ۔ حتیٰ کہ یحییٰ بن خالد اور اس کے لڑکے کہا کرتے تھے کہ عبداللہ خلیفہ پر جادو کرتا ہے ۔ ایک زمانہ گزگیا اور دونوں کے دلوں میں کینہ بڑھتا رہا ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

جینے کی ہوس

میں دمشق کی جامع مسجد کی سڑھیوں پر بیٹھا کسی عملی مسئلے پر دوستوں سے گفتگو کر رہا تھا کہ ایک نوجوان آیا اور اس نے پوچھا :

"حکایات" میں شائع کیا گیا