بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

برائی کا بدلہ بھلائی ہے

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان شراب کے نشہ میں دھت بربط بجارہا تھا کہ ایک نیک شخص کا گزر اس کے پاس سے ہوا۔اس شرابی شخص نے اپنا بربط اس نیک شخص کے سر پر دے مارا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور شرابی کا بربط بھی ٹوٹ گیا۔اس شرابی کی یہ حرکت قابل مذمت تھی اور اگر کوئی عام شخص ہوتا تو اس شرابی کو مار مار کر اس کا نشہ اتار دیتا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

مجاہدے کے تیر سے اس خزانے کو کھود لیتا

انسان اپنی ذہانت اور عقل مندی کے بھروسہ پر علم نبوت سے محروم رہ جاتا ہے۔وہ اپنی ذہانت اور طبعی تصورات کے دھوکے میں مبتلا رہتا ہے اور پھر اسے افسوس کرنا پڑتا ہے کہ مکان کے نقش ونگار اور آرائش میں مصروف رہ کر میں اس خزانے سے محروم ہو گیا۔پھر وہ کہے گا کہ کاش! میں مجاہدے کے تیر سے اس خزانے کو کھود لیتا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

”گڈو بیٹا بہت ہو چکا کھیل ،اب آکر پڑھائی کرو تمہارے امتحان شروع ہونے والے ہیں․․․․ “گڈو کی امی نے اسے آواز دیتے ہوئے کہا۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

تقدیر کا فیصلہ آنے پر عقل جاتی رہتی ہے

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک گدھ اور چیل کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ دونوں میں کس کی نگاہ زیادہ تیز ہے ؟ گدھ کہنے لگا کہ میری نگاہ زیادہ تیز ہے جبکہ چیل کہنے لگی کہ میری نگاہ تجھ سے زیادہ تیز ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اونٹ کے منہ میں زِیرہ

شوکت بڑی محنت سے لیڈیز بیگ بناتا اور پھر تیار کئے ہوئے بیگ دکانداروں کو دے آتا۔شوکت نے بیگ بنانے کے لئے اپنے پاس کچھ کاریگر بھی رکھے ہوئے تھے جو اس کے ساتھ مل کر یہ بیگ تیار کرتے اور ہر ہفتے یہ لیڈیز پرس دکانوں پر دے آتے۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

مرد حق ہی اصل خزانہ ہے

حج کی راہ میں بھی مردانِ خدا کو تلاش کرو کیونکہ مردِحق ہی اصل خزانہ ہے۔مردانِ حق عام کاموں میں مریدوں کا امتحان لیتے ہیں۔نیند میں دل ملکوت کا روشن دان بن جاتا ہے اور بیداری کی حالت میں خواب دیکھنے والے کو عارف باللہ کہتے ہیں۔ایسے لوگوں کی خدمت کرو اور ایسے لوگوں کا طواف حقیقت میں کعبہ کا طواف ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

ایک انار سو بیمار

آج ماجد بہت خوش تھا۔اس کے ابو رنگین ٹی وی جو لارہے تھے۔پورے محلے میں اس وقت رنگین ٹی وی کسی کے گھر بھی نہیں تھا ماجد اپنے دوستوں کو رنگین ٹی وی کے بارے میں بتا رہا تھا۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

دانا دشمن نادان دوست سے افضل ہے

یقین بالغیب کے باوجود شانِ حکمت دیکھنے کا شوق عارف میں ہوتا ہے۔اشیاء کا ظہور سبب کے تحت ہوتا ہے اور بے سبب میں جسم کی پرورش کی بجائے روح کی پرورش کرنی چاہیے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

سائرہ

سائرہ روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اوراپنے ماں باپ کو یاد کرتے ہوئے بولی ۔ ” آپ دونوں مجھے اس طرح اکیلا تنہا کیوں چھوڑ گے میرا تو کوئی ہے بھی نہیں تھا آپ کے سوا پھر کیوں کیوں ۔۔۔ سائرہ روتی چلی گئی اور روتے روتے اس کی آنکھ لگ گئی وہ زمین پر ہی سو گئی۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

معافی

پچھلی رات معافیوں کی رات کے طور پر منائی گئی۔ سب نے سب سے کھڑے کھڑے معافی مانگی اور صبح ہوتے ہلکے پھلکے ہو کر سو گئے۔ سوشل میڈیا نے اسے اور بھی آسان کر دیا ہے۔ خدا کرے روزِ محشر بھی وائی فائی کام کرتا ہو اور ہم سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے یوں ہی رابطے میں ہوں۔ اتنی آسانی سے حقوق العباد کی اگر معافیاں روزِ محشر بھی ہو گئیں تو یقینا حساب مختصر ہو جائے گا اور جلد از جلد ہم بہشت کے ائرکنڈیشنڈ ہال میں پہنچ چکے ہوں گے۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

پہلی اقوام کے دنیا سے عشق اور ہوس کا ذکر

اللہ عزوجل نے پہلی اقوام کے دنیا سے عشق اور ہوس کا ذکر کیا ہے۔اور نصیحت کرنے والے کے ساتھ ان کے سلوک کا بھی ذکر بیان کیا ہے۔ان کے برے احوال وافعال ہمارے سامنے بیان کردئیے گئے تاکہ ان سے عبرت حاصل ہوپھر ان سے عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

فقیری کسی نعمت سے کم نہیں

"حکایات" میں شائع کیا گیا

بے عیب ذات

ایک روز ایک بزرگ کی محفل میں اس نوجوان کا ذکر ہوا تو میں نے اس نوجوان کی اس کمزوری کا ذکر کیا اور پھر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ میرے نزدیک اس کی گفتگو میں یہ نقص اس لئے ہے کہ اس کے سامنے کے دانت صحیح نہیں ہیں۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

سایہ حقیقت کب ہے؟

دنیا میں گردش کسی غرض کے بغیر نہیں ہے ماسوائے عاشقوں کے جسم و جان کو صحیح معنوں میں ذاتِ خداوندی کے عاشق ہوں۔جب کوئی جزو کا عاشق ہوتا ہے تو اس کا معشوق اپنے کل کی جانب جلدی ہی چلا جاتا ہے کیونکہ تمام ممکنات فنا ہو کر ذات احدیت میں مل جاتے ہیں۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

روزے کا اصل مفہوم

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے رزق کا انحصار بادشاہ وقت کی سخاوت پر موقوف تھا۔وہ شاہی باورچی خانے چلاجاتا اور وہا ں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھانا لے آتا تھا۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

جسم خاکی ہے

اے سالک! انسان تو بطخ کے ایک انڈے کی مانند ہے جس کو گھریلو مرغ نے اپنے پروں کے نیچے لے کر پالا ہے۔تیری ماں کا تعلق پانی سے ہے لیکن دایہ کا تعلق خشکی سے ہے۔تیرا تیرنے کی طرف میلان ماں کے ساتھ نسبت کی وجہ سے ہے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

بوڑھا قیدی اور دنیا

اس قیدی نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو جمایاں لیتے جارہے ہیں،حالانکہ ان کے سامنے ہی ابھی بھی ایک لاوا پھٹا ہے۔وہ نہیں سمجھ سکا کہ یہ سونے کے لیے جمائی ہے یا نیند سے اٹھنے کی جمائی ہے۔چونکہ نیند سے جاگنے والا اور اولاپرواہ شخص تینوں جمائیاں لیتا ہے۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

بڑھیا کی بینائی

ایک بوڑھی عورت کی بینائی کم ہوگئی۔اندھے ہونے کے خیال سے وہ علاج کے لیے ایک حکیم کے پاس گئی اور کہا۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

احساس

دفتر کے قریب فٹھ پاتھ پر بیٹھے اس بوڑھے سے آتے جاتے جوتے پالش کروانا اس کا معمول تھا، مگر عجیب بات جو میں کئی دنوں سے نوٹ کر رہا تھا وہ یہ تھی کے وہ ہر بار جوتا پالش کروانے کے بعد اس بزرگ سے۔۔۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

خان بہادر کی بدعقلی

خان بہادر کا روزگار کا مسئلہ عرصہ دراز سے چل رہاتھاجہاں بھی نوکری کی تلاش میں جاتے مایوس ہی آتے اب تو انہوں نے دفاتر کو چھوڑ کر چھوٹے موٹے کاموں کو سوچنا شروع کر دیا تھا ۔اُن کی بیگم جو خاصی بھاری بھرکم تھیں ساتھ دینے کیلئے خان بہادر کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئیں

"مضمون" میں شائع کیا گیا