بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

بیوی کی سازش

دولت عثمانیہ میں سلیمان اعظم کا دور حکومت سنہری دو ر کہلاتا ہے ۔لیکن اسی سنہری دور میں اسے زوال کا گھن ایسا لگا کہ پھر یہ عظیم الشان سلطنت ٹھہر نہ سکی

"حکایات" میں شائع کیا گیا

دنیا ااور آخرت

اندلس کے ایک بزرگ منذربن سعید جو اس وقت کے قاضی اور خطیب تھے نے ایک بار جامع مسجد میں بادشاہ کو سنانے کی غرض سے تقریر کی۔ جس میں دنیا کی بے ثباتی اور شہر و محلات کی آرائش پر بے جا اصراف پر کڑی تنقید کی۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

جعلی چھٹی

کہتے ہیں یحییٰ بن خالد برمکی اور عبداللہ مالک خزاعی کے درمیان پوشیدہ دشمنی تھی جسے وہ ظاہر نہ کرتے تھے وجہ یہ تھی کہ خلیفہ ہارون الرشید عبداللہ بن مالک کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا

"حکایات" میں شائع کیا گیا

نرالی تدبیر

میری بیوی نے مجھے بتایا کہ سارا مال چوری ہو گیا ہے۔ حالانکہ گھر میں نہ کوئی نقب لگی دیکھی اور نہ ہی چھت اکھڑنے کا کوئی نشان۔ خلیفہ نے پوچھا کہ تمہارے نکاح کو کتنا عرصہ گزرا ہے؟

"حکایات" میں شائع کیا گیا

جنات کا پیدائشی دوست

علامہ لاہوُتی پُراسراری کی جنات کے ساتھ بسر سچی آپ بیتی کا پُر اسرار سفر

"سفر نامہ" میں شائع کیا گیا

”آزاد کشمیر کا افسانہ نگار توجہ کاطالب“

ایک ادیب یا قلمکار قوم کے مزاج کا معمار ہوتا ہے۔ کسی قوم کا ادب اس قوم کے مزاج ، فکر اور رحجانات کی تعمیر کرتا ہے۔ بڑے بڑے ادیبوں نے قوموں کی فکر کی کایا پلٹ دی۔

"مضمون" میں شائع کیا گیا

عجیب فیصلہ

امیر المومینن حضرت علی کا عہد خلافت ہے۔ ایک نوجوان گھبرایا ہوا اور یہ کہتا ہوا کہ اے امیر المومنین مجھ میں اور میری ماں میں فیصلہ فرمایئے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

ایک فتنے باز یہودی

عبد اللہ بن سبا ایک شریر اور فتنہ باز یہودی تھا جو حضرت عثمان کے وقت میں منافق بن کر مسلمان ہوگیا تھا ۔کچھ دن مکہ و مدینہ میں رہامگر یہاں اس کا دا ؤنہ چلا تو پھر یہ منافق شہرِ بصرہ میں گیا

"حکایات" میں شائع کیا گیا

دوستی

ایک دفعہ ایک درویش دریا میں غوطے کھا رہا تھا ۔یہ دیکھ کر ایک دوست نے پکا ر کر کہا کہ بھائی کیا آپ نجات پسند کر تے ہیں ۔اس نے کہا نہیں جب دوست نے کہا کہ کیا غرق ہو نا پسند کرتے ہیں تو اس نے کہا نہیں ۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

غضب خدا وندی

بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا۔ وہ ایک دن اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا کہ اس نے ایک شخص کو دروازے سے داخل ہوتے ہوے دیکھا جو بڑی ڈراؤنی صورت والا تھا۔س

"حکایات" میں شائع کیا گیا

آواز

’’ہمارے گورنر منصور بن زیاد کے پاس جاؤ اور کہہ ہمارے تجھ پر دو کروڑ درہم واجب ہیں۔ وہ ابھی ادا کر۔ اگر وہ مغرب تک نہ دے تو اس کا سر اتار لانا مگر دیکھ اس کے بارے میں مجھ سے کوئی گفت و شنیدنہ کرنا بس اس کا سر میرے پاس لے آنا۔“

"حکایات" میں شائع کیا گیا

فریبی دنیا

مولانا رومی رح بیان کرتے ہیں کہ ایک ملا نے سر پر کلاہ نما دستار رکهی ہوئی تهی، خود کو بڑا فصیح و بلیغ اور یتیم خانے کا سرپرست اعلی سمجهتا تها،(اسکی) یہ دستار ظاہری طور پر خوبصورت نظر آرہی تهی لیکن

"حکایات" میں شائع کیا گیا

دنیائے فانی

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ و بارک وسلم کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی عمر کا زیادہ تر حصہ جنگوں میں شرکت کرتے ہوئے ہی گزارا اور آخر کار شہادت کا ایسا جام نوش کیا جس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ آپ نے جوانی کے زمانہ میں جو جنگیں لڑیں ان میں

"حکایات" میں شائع کیا گیا

پر و فیسر یوسف حسن کا سانحہ ار تحال

گزشتہ دنوں معروف تر قی پسند شاعر اور دانشور یوسف حسن راولپنڈی میں انتقال کرگئے ،وہ 1947 ء میں ضلح جہلم کے قصبے کا لا گوجراں میں پیدا ہوئے ۔یوسف حسن نے 1980ء میں راولپنڈی کا رُخ کیا اور پھر یہیں کے ہو کررہ گئے

"ادبی خبریں" میں شائع کیا گیا

چوہے کی رہبری

ایک اونٹ کہیں جا رہا تھا کہ اس کی نکیل کسی چوہے کے منہ میں آ گئی۔ چوہا بہت اکڑا اور منہ میں اچھی طرح نکیل دباۓ بڑی شان رعونت سے اونٹ کے آگے آگے چلنے لگا۔ چوہے نے سوچا کہ آج

"حکایات" میں شائع کیا گیا

اپنی ذات کی نفی

جب انسان کے اندر مَیں مر جائے تو تب اس کا عشق پختہ ہوتا ہے ایک دفعہ ایک عاشق اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کی غرض سے اس کے در پر پہنچا دستک دی تو اندر سے آواز آئی کون ہے ؟

"حکایات" میں شائع کیا گیا

پشیمانی کے آنسو

حضرت امیر معاویہ آرام فرما رہے تھے کہ اچانک کسی نے آپ کو بیدار کردیا حضرت امیر معاویہ نے ادھر ادھر دیکھا تو ان کو کوئی شخص نظرنہ آیا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ ایک شخص دروازے کی آڑ میں اپنا منہ چھپائے کھڑا ہے۔ آپ نے دریافت کیا: ”تو کون ہے؟“

"حکایات" میں شائع کیا گیا

گریہ و زاری

ایک صاحبِ کمال بزرگ اپنے حال کو لوگوں پر ظاہر نہیں کرتے تھے اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ان کی ایک عجیب عادت تھی کہ دولت مندوں سے سینکڑوں ہزاروں کی رقمیں قرض لیتے اور دل کھول کر فقراء و مساکین پر صرف کرتے۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

آنکھوں کی طلب

کوہ ِو طور پر تجلی الہیہ کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ کے چہرہ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود جوبھی آپ علیہ السلام کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا تو اس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہوجاتی۔

"حکایات" میں شائع کیا گیا

نفس امارہ کی دیوار

کسی ندی کے کنارے ایک اونچی دیوار بنی ھوئی تھی اس دیوار پر ایک پیاسا آدمی بیٹھا ھوا تھا پیاس کے مارے اس کی جان لبوں پر آگئی تھی وہ دیوار اس پیاسے انسان اور اس کی پیاس کے درمیان حائل تھی اسے جب اور کچھ نہ سوجھا تو اس شخص نے دیوار سے اینٹیں اکھیٹر کر ندی کے پانی میں پھینکنی شروع کردی

"حکایات" میں شائع کیا گیا