بند کریں
ادب مضامین

مزید عنوان

اردو ادب میں نیا اضافہ

بچے کی گواہی

اللہ کی شان دیکھیں اس دو ماہ کے دودھ پیتے بچے نے کہا!یارسول اللہ ﷺ السلام علیکم! ہم آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہیں“ ماں کے چہرے کا رنگ زرد ہوگیا

"حکایات" میں شائع کیا گیا

ٹُک ٹُک دیدم، دم نہ کشیدم

ہاتھی نے جو شاید پہلے ہی سے غصے میں بھرا بیٹھا تھا اپنی سونڈ میں شیر کو لپیٹ کر اس زور سے زمین پر پٹخاکہ بے چارہ شیر اپنی کمر سہلاتا رہ گیا اور پھر کہنے لگا

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

آپ آئے بھَاگ آئے

انہوں نے جب گھاؤں والوں کو اس قدر پریشان حال دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے بارش ہونے کی دعا کی۔ کچھ دن بعد ہی گاؤں میں بارش برس پڑی۔ اب تو سب گاؤں والے جھومنے لگے

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو

آخر کار ایک ہم جماعت نے نوید سے پوچھ ہی لیا۔ میرے ماموں جان تعلیمی بورڈ کے ممبر ہیں، بھلا میں کیوں فیل ہوتا۔ نوید نے بڑے فخر سے سینہ پھلاتے ہوئے کہا

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

سیدھا راستہ

عارف کام کے بارے میں سن کر غصے میں بھڑک اٹھا انور تم مجھے اس نیچ کام کرانے کی بجائے سرعام بے عزتی کردیتے تو مجھے گوارہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن تم نے مجھے ضمیرفروش کیوں سمجھ لیا تھا میں معاشرے کا ستایا ہوا ضرور ہوں لیکن اتنا بھی نہیں گرگیا کہ یہ گھٹیا کام کروں گاعارف غصے سے بولتا گیا

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

پہلے بات کو تولو پھر منہ سے بولو

سر میں شرمندہ ہوں۔ زبیر نے شرمندگی کے ساتھ کہا۔ تم نے خواہ مخواہ ساجد پر کتاب لینے کا جھوٹا الزام لگایا اور اسے برابھلا کہا اسی لئے کہتے ہیں” پہلے بات کو تولو پھر منہ سے بولو

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

باغ باغ ہونا

سب ہی کسانوں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی اپنی فصل کاٹ لی۔۔۔۔۔۔۔۔جب اس نے اپنی فصل دیکھی تو اس کے دل سے بے اختیار سبحان اللہ نکلا، رحیمو کی فصل واقعی بہت اچھی ہوئی تھ

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

بغل میں بچہ شہر میں ڈھنڈورا

شناختی کارڈ کو ڈھونڈنے کے لئے اس نے اپنے کمرے کا حلیہ بھی بگاڑ کررکھ دیاتھا۔ الماری کھلی پڑی تھی اور دروازوں کا سامن بھی باہر نکلا ہوا تھا

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

بدلتے دن

ہر طرف برف ہی برف نظر آتی تھی صنوبر کے لمبے لمبے درخت برف کی چادر اوڑھے ہوئے تھے سطح زمین سے سات ہزار فٹ کی بلندی پرواقع ایک چھوٹے سے گھر کے مکین بھی سردی اس شدت کی وجہ سے پریشان تھے

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

باپ بھلا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ

بابو جی کھڑکی پر ختم ہوگئے ہیں تو کیا ہوا اپنے پاس تو ہیں مگر اصل رقم سے فی ٹکٹ300 روپے اوپر دینا ہوں گے۔ قلی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے رازدارانہ انداز میں ماجد کے کان میں کہا

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

انیسویں رات

اے امیرالمومنین‘ اس نے مجھے اپنے کچھ بال دیئے اور کہا کہ جب تو مجھے بلانا چاہے تو ان بالوں میں سے ایک بال لے کر جلائیو اور میں فوراً آجاﺅں گی‘ خواہ میں کوہ قاف کے پار ہی کیوں نہ ہوں

"الف لیلہ و لیلہ" میں شائع کیا گیا

بوجھ

اس گھر میں دو بیٹیاں پہلے ہی موجود تھیں میری پیدائش پر میرا باپ اتنا غصے ہوا کہ اس نے میری ماں کو خوب مارا کہ بیٹی کی پیدائش کے جرم میں،،،تو میری ماں نے اپنی مار کا بدلہ مجھ پہ اس طرح اتارا کہ میری طرف سے بالکل لاپرواہوگئی

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اس کو وہاں ماریں جہاں پانی نہ ہو

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

انتقام

گرمی بلا کی تھی ندی نالے،دریا،تالاب سوکھے پڑے تھے کسانوں کی امید بھری نظریں آسمان کی طرف اٹھیں اور مایوس ہوکر پلٹ آتیں ان کے دل کہہ رہے تھے کہ بارشیں نہ ہوئی تو کھیتوں میں ایک دانہ بھی نہ اگے گا۔۔۔۔۔۔اور جنگل بھی سوکھ چکا تھا

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اندھے کے آگے روئیے اپنے بھی نین کھوئیے

اچھے بھلے ہوتے ہوئے بھی بھیک مانگنا تو بہت بری بات ہے۔ گڈو کی امی دروازے پر کھڑی گڈو کی باتیں سن رہی تھیں انہوں نے فقیر کو ایک روپے کا سکہ دیتے ہوئے دروازہ بند کرلیا

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

بے مثال

بابا جب آپ بیمار تھے آپ کو پیسوں کی اشد ضرورت تھی تو اس وقت ہم نے ایک ایک سے جاکر مطالبہ کیا تھا۔اس وقت بھی یہی لوگ تھے جنہوں نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیں تھی بابا یہ معذور انسان ہمارے کام آیا تھا۔

"افسانہ" میں شائع کیا گیا

اٹھارھویں رات

مجھے اس سانپ پر ترس آیا اور میں نے ایک پتھر اٹھا کر اژدہے کے سر پر دے مارا اور وہ فوراً مرگیا۔ اب سانپ نے دو بازو کھولے اور ہوا میں اڑ گیا اور میری نظر سے غائب ہو گیا

"الف لیلہ و لیلہ" میں شائع کیا گیا

اپنا مال جائے آپ ہی چور کہلائے

بچے کو زخمی کرنے والا لڑکا اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں تھا بلکہ اس کا کہنا تھا کہ غلطی بچے اور اس گے گھر والوں کی ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے بیٹا، قصور کرکے اُلٹا ہم پر ہی الزام لگارہے ہو

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

دشمنوں کی طبیعت نَاسَاز ہے

بخار کی وجہ سے کمزوری بھی بہت ہوگئی ہے“ مرزا صاحب نے کھانستے ہوئے کہا۔ مرزا صاحب زندگی کے ساتھ دکھ سکھ لگے ہی رہتے ہیں

"کہاوتیں" میں شائع کیا گیا

ایک شاعر کی سیاسی یادیں ۔۔۔۔ اپنے والد کے جوتوں میں

ایک دن مجھے کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی۔ یہ سوچتا ہوا گھر جا رہا تھا کہ آج تو پٹائی ہی ہو جائے گی۔ انہیں اتنا پریشان اور ناراض کبھی نہیں دیکھا تھا

"آپ بیتی" میں شائع کیا گیا