کام کرنے والی خواتین اور معاشرہ

Kaam Karne Wali Khawateen Aur Muashra

Shabbir Chohan شبیر چوہان ہفتہ جنوری

Kaam Karne Wali Khawateen Aur Muashra
 اس معاشرے کے لوگ اتنے تنگ نظر کیوں ہیں؟ بجائے کسی کی کاوش کو سراہنے کے، اس پر باتیں بنانے کو اپنا فرضِ عین کیوں سمجھتے ہیں؟کیا خواتین کو اسلام نے مکمل حقوق عطا نہیں کر رکھے؟ اگر ایسا ہے تو یہ معاشرہ انکے مجبوری کے تحت اُٹھائے گئے اقدامات کو غلط قرار دے کر ان پر زندگی کی راہیں تنگ کر دینے ہی پر کیوں بضد رہتا ہے؟ 
ہم بات کر رہے ہیں محنت کرکے روزگار کمانے والی خواتین کی۔

اس ملک کے بڑھتے مسائل نے عام آدمی کی زندگی بھی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے میں اکثر ہی خواتین گھر سے باہرنکلنے اور کوئی کام کرنے پر مجبور ہیں تاکہ گھر کے اخراجات اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ 
بڑھتی مہنگائی اسکی اہم وجہ ہے۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ کبھی حالات اس موڑ پر لے آتے ہیں جس پر گھر میں کوئی مرد کفیل نہیں رہتا اور مجبوراً خواتین کو ہی روزگار حاصل کر کے گھر چلانا پڑتا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب اگر برابری اور مساوات کے اصول کی بات کی جائے تو کیا اسلام اور بنیادی انسانی حقوق عورت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دیتے؟ حتیٰ کہ اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی اس تنگ نظری کا شکار ہیں کہ عورت کو ہر حال میں گھر کی چار دیواری ہی میں رہنا چاہیے۔ جو خواتین کام کی غرض یا مجبوری میں گھر سے نکلتی ہیں انہیں اس معاشرے میں کئی قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کبھی بات انکے کردار تک آتی ہے اور کبھی کچھ اور طرح کے طعنوں تک۔
 اگر سوچا جائے تو اس سب کی بنیاد یہ لوگ ہی نہیں ہیں؟ آخر حالات ایسے کیوں ہوتے ہیں کہ بات عورت کے کردار تک آجائے؟اسکی زندگی اتنی مشکل ہوتی نہیں جتنی بنا دی جاتی ہے۔اس معاشرے میں دورِ جاہلیت کی روایات اب تک کیوں برقرار ہیں؟اگر سوچ نہیں بدلنی تو تعلیم بیکارنہ ہوئی؟ کہاں ہیں حقوقِ نسواں اور انسانی بنیادی حقوق کے علمبردار؟ حقیقت تو یہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کی فراہمی اور آزادی کا دم بھرنے والے اور جدید سوچ رکھنے کا دعویٰ کرنے والے بھی کہیں نہ کہیں ایسی ہی کم ظرفی کا اظہار کرتے ہیں۔

آخر عورت صرف نام ہی کا مقام کیوں رکھتی ہے اس معاشرے میں؟ لوگ جیسی سوچ کا دعویٰ کرتے ہیں ویسی ہی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ بھی کیوں نہیں کرتے؟ معاشرہ کب سمجھے گا؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments