جنوبی وزیرستان ‘ جرگے میں گورنر سرحد کی تقریری کے دوران راکٹ حملے‘ علی جان اورکزئی سمیت سینکڑوں افراد محفوظ رہے،واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا‘ وانا کے آس پاس فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں ‘ ذرائع،علی جان اورکزئی 4 بجے شام بخیر و عافیت گورنر ہاؤس پہنچ گئے۔(تفصیلی خبر)

منگل نومبر 18:47

وانا+پشاور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین07نومبر2006 ) جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل (ر)علی محمد جان اورکزئی پر راکٹوں کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے تا ہم گورنر سرحد’آئی جی ایف سی’فاٹا سیکرٹریٹ کے اعلی حکام اور جنوبی وزیرستان کا پانچ سو عمائدین کا نمائندہ جرگہ نقصان سے محفوظ رہے ۔واقعات کے مطابق منگل کوجنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی محمد جان اورکزئی ، انسپکٹر جنرل فرنٹےئر کور میجر جنرل عالم خٹک ‘ فاٹا کے اعلی حکام ’پولیٹیکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان سمیت جنوبی وزیرستان کے اقوام احمد زئی ، وزیر محسود اور سلمان خیل کے 5 سو عمائدین ایک قبائلی جرگہ میں موجود تھے کہ اس دوران جوں ہی گورنر سرحدسٹیج پر تقریر کے لئے آئے تو جرگے کے انعقاد کے مقام کے قریب دو مقامات پر خطرناک راکٹوں سے حملہ کیا گیا ۔

(جاری ہے)

عینی شاہدین کے مطابق راکٹوں کے پھٹنے سے دل دہلا دینے والے دھماکے ہوئے اورآس پاس کی زمین لرز کر رہ گئی تا ہم راکٹ نشانے سے خطا لگنے کی وجہ سے گورنر سرحد سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور تقریباً 5 سو نمایاں قبائلی مشران و مالکان محفوظ رہے ۔جنوبی وزیرستان سے پشاور لوٹنے والے ایک عینی شاہد نے رابطے پر بتایا کہ وانا کیمپ میں منعقدہ مذکورہ جرگے سے جب گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل (ر)علی محمد جان اورکزئی خطاب کے لئے آئے تو تقریباً 5 منٹ بعد یکے بعد دیگرے نامعلوم مقام سے دو راکٹ داغے گئے جو جرگہ کے قریب زور دار دھماکے سے پھٹ گئے ۔

ذرائع کے مطابق ان دھماکوں کے بعد بھی گورنر سرحد نے جرات اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تقریر جاری رکھی اور پروگرام کے مطابق جرگے کے دیگر لوازمات پورے کرنے کے لئے جرگے کے اختتام تک موقع پر موجود رہے ۔اپنی تقریر کے بعد گورنر سرحد نے حسب پروگرام مختلف قبائلی سائلان کی درخواستیں بھی نمٹائیں ۔ذرائع کے مطابق جرگے سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سرحد نے راکٹ حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات نے قبائیل کو بدنام کر دیا ہے لہذا قبائیلی مشران کو اس منفی طرز عمل کے خاتمے میں کردار ادا کرنا چاہئیے گورنر نے کہا کہ اس قسم کے حربوں سے قبائیل میں جار ی امن عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جا سکتا اور شرپسند اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ گورنر سرحد گزشتہ دو دن سے قبائیلی علاقوں شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے دورے پر ہیں اور منگل کے روز مذکورہ جرگے میں گورنر سرحد شمالی وزیرستان کیلئے ترقیاتی پیکج کا اعلان کرنے والے تھے۔ جرگے پر راکٹ حملوں کے فوری بعد گورنر سرحد وانا سے پشاور کے لئے روانہ ہو گئے اور وہ تقریباً 4 بجے شام گورنر ہاؤس واپس پہنچ گئے ۔

ذرائع کے مطابق گورنر سرحد پر حملے کے فوری بعد فرنٹےئر کور کے دستے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ گئے اور وانا کے آس پاس شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔اور علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن بھی شروع کردیا گیا ہے ادھر گورنر سرحد نے کوشش کے باوجود میڈیا کے ساتھ اس واقعے کے حوالے سے بات کرنے سے اجتناب کیا اور آخری اطلاعات آنے تک کسی بھی متحارب گروپ نے مذکورہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ سرکاری سطح پر حملہ آوروں کے بارے میں کوئی بیان جاری ہوا ہے ۔