دین اسلام نرمی، محبت اور انسیت کو فروغ دینے کا دین ہے اور اس دین کی تعلیمات کو پوری دنیا میں عام کیا جانا چاہیے، امام خانہ کعبہ، لال مسجد اور جامعہ حفصہ والے میانہ روی اور گفتگو کا راستہ اختیار کریں، اسلحہ استعمال کرنے والے اسلحہ پھینک دیں ، پی ٹی وی سے انٹرویومیں گفتگو

ہفتہ جون 23:54

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2مئی۔2007ء) خانہ کعبہ کے امام عبدالرحمن السدیس نے کہا ہے کہ دین اسلام نرمی، محبت اور انسیت کو فروغ دینے کا دین ہے اور اس دین کی تعلیمات کو پوری دنیا میں عام کیا جانا چاہیے ہفتہ کو پی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امام کعبہ نے کہاکہ دورہ پاکستان کی یادیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی اور پاکستانیوں کی اسلام سے محبت و عقیدت اور اسلامی تعلیمات سے لگن کے کئی مظاہرے ان کے دورے پاکستان کے دوران لاہور اور اسلام آباد میں دیکھنے میں آئے انہوں نے کہاکہ بعض مسلمانوں نے غلط طورپر تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ اسلام نے شروع سے ہی ہر طرح کے شر، تشدد اور برائیوں کو روکا اسلام تمام مسلمانوں کو خاص طورپر اعتماد، رواداری، خیرخواہی کادرس دیتا ہے انہوں نے کہاکہ ہم سب کو امن و سلامتی کے دین کا علمبردار ہونے کے ناطے تمام مسلمانوں سمیت ہر ایک کی جانوں کی حفاظت کرنی چاہیے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ہمیں اسلامی تعلیمات کے مطابق میانہ روای کا سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور ہمیں میانہ روی کو اپنانا چاہیے شریعت کا علم عام کرنا چاہیے ہمیں اسلامی تعلیمات کے خلاف چیزوں کو رد کرنا چاہیے امام کعبہ نے کہاکہ لوگوں کی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات سے خالی نہیں ہونا چاہیے یہ خیر اور سلامتی محبت اور انسیت کا درس دیتا ہے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ حضور کے دور میں مباحثہ تک احسن طریقے سے ہوتا رہا اور کئی فتنے پیدا ہوئے تاریخی مسائل پیدا ہوئے جن کو احسن طریقے سے حل کیا گیا مسائل آج بھی پیدا ہورہے ہیں ہمارے لیے لازم ہے کہ قائدین، اساتذہ، علماء کرام دین کی تعلیم کو عام کریں ہم اسی طریقہ سے تمام فتنوں کا قلع قمع کرسکتے ہیں اپنے گھر، معاشرہ، ملک اور ہر سطح پر امن وسلامتی کو برقرار رکھنا چاہیے انہوں نے پاکستان میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے حوالے سے کہاکہ اس ضمن میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ والے میانہ روی اور گفتگو کا راستہ اختیار کریں اور اسلحہ استعمال کرنے والے اسلحہ پھینک دیں اور وہ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں کسی کو بھی ملک میں خون بہانے کی ضرورت نہیں ہے انہوں نے کہاکہ مجھے اس بارے میں جان کر حیرانی اور دکھ ہوا ہے جبکہ مساجد امن کا گہوارہ ہوتی ہیں اور احتجاج کی جگہ نہیں ہوتی بلکہ مساجد امن وسلامتی کا گہوارہ اور اللہ تعالی کی بندگی اور عبادت کی جگہ ہوتی ہیں انہوں نے کہاکہ اسلحہ کے زور پر بات کا منوانا کسی طرح بھی درست نہیں ہوتا مجھے یقین ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ والے دانش اور گفتگو کا طریقہ اپنائیں گے جس کے مثبت نتائج نکلیں گے ۔

امام کعبہ عبدالرحمن السدیس نے انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہاکہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد ہر طرف دہشت گردی اور تخریب کاری کے الزامات مسلمانوں پر لگائے جارہے ہیں جن کا ہمیں پرزور مقابلہ کرنا ہے اوردنیا کو اسلام کی میانہ روی اور ہر ایک کو امن وسلامتی فراہم کرنے کی تعلیمات سے روشناس کروانا ہے انہوں نے کہا کہ میں تمام مسلمانوں اور قائدین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق میانہ روی کا راستہ اختیارکریں اگر سختی کا راستہ اختیار کریں گے تو دین اسلام بدنام ہو جائے گا لہذا ہم پر لازم ہے کہ ہم اس طرح کے کوئی کام نہ کریں جن سے اسلام بدنام ہو ۔

انہوں نے شاندار استقبال کرنے اور دورہ کا موقع فراہم کرنے پر سعودی و پاکستانی حکومت اور تمام پاکستانیوں کاشکریہ ادا کیا اور کہاکہ مجھ پر بے پناہ محبتیں نچھاور کی گئیں اور انہیں یہ دورہ ہمیشہ یاد رہے گا انہوں نے دعا کی کہ پاکستان کو اللہ تعالی امن واستحکام بخشے اور پاکستان میں سلامتی اور ترقی ہو۔

متعلقہ عنوان :