روس نے یوکرین کو گیس کی فراہمی روک دی

جمعہ جنوری 12:13

ماسکو(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔02جنوری 2009 ء) روس نے قرض اور قیمت کے ایک تنازعے میں یوکرین کے لیے قدرتی گیس کی فراہمی منقطع کردی ہے۔دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں اور دونوں نے مغربی یورپ میں اپنے گاہکوں کو یقین دلایا ہے کہ انہیں یوکرین کے راستے پائپ لا ئن سے ملنے والی گیس میں خلل نہیں پڑے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس میں گیس کی اجارہ دار سرکاری کمپنی گیزپروم کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اصل تنازعہ قیمت کے بارے میں نہیں ہے۔

بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ماسکو میں جاری مذاکرات میں یوکرین کے مندوبین کے پاس کسی سمجھوتے پر دستخط کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یوکرین کی گیس کمپنی نافتو ہاز کا کہنا ہے کہ پائپ لائن سے یورپ کو جانے والی گیس پر راہ داری فیس میں اضافے کے لیے بات چیت کرنے سے روس کے انکار کی وجہ سے مذاکرات کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔

(جاری ہے)

یوکرین کے صدر وکٹر یْش چینکو نے گزشتہ روز کہا ہے کہ اْنہیں توقع ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوجائیں گے اور سات جنوری تک کوئی سمجھوتا طے پاجائے گا، جو کہ بازنطینی کلیسا کا کرسمس کا دن ہے۔

لیکن مزید مذاکرات کے لیے کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہے۔ اسی دوران نافتو ہاز نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اْس نے پائپ لائن میں دباوٴ کو برقرار رکھنے کے لیے گیس کی تھوڑی سی مقدار کا رْخ تبدیل کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :