2009ء میں کھانے پینے کی بیشتر اشیا 97 فیصد تک مہنگی ہوئیں

ہفتہ جنوری 13:59

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔2جنوری۔ 2010ء) افراط زر میں کمی کے حکومتی دعووں کے باوجود گذشتہ سال کے دوران دالوں سمیت بیشتر کھانے پینے کی اشیا ستانوے فیصد تک مہنگی ہو گئیں۔ سال دوہزار نو کے دوران آٹا، دالیں، چینی، گھی، تیل، چائے، دودھ، گوشت اور مصالحہ جات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ کراچی ریٹیل گروسرز گروپ کے مطابق یکم جنوری سے دسمبر دوہزار نو کے دوران دالوں کی قیمتوں میں ستانوے فیصد اضافہ ہوا۔

جبکہ آٹے کی مختلف اقسام کی قیمتیں بھی چھ سے دس فیصد بڑھ گئیں۔ چینی کی قیمت پچپن فیصد، چائے تیس فیصد، گھی آٹھ فیصد، خورنی تیل پچیس فیصد اور چاول کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں دس فیصد تک اضافہ ہوا۔اس کے برعکس وفاقی ادارہ شماریات کا دعوی ہے کہ جنوری دوہزار نو میں افراط زر کی شرح ساڑھے بیس فیصد تھی، جو نومبر میں کم ہو کر ساڑھے دس فیصد پر آگئی۔

(جاری ہے)

ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔ گذشتہ سال کے آغاز پر پیٹرل کی قیمت ستاون روپے چھیاسٹھ پیسے اور ڈیزل ستاون روپے چودہ پیسے فی لیٹر تھا۔ جو اکتیس دسمبر تک بالترتیب چھیاسٹھ روپے اور ساٹھ روپے بائیس پیسے میں فروخت کیا گیا۔ گذشتہ سال مختلف اقسام کا ایک کلوگرام آٹا تیس سے چھتیس روپے میں فروخت کیا جارہا تھا، سال کے اختتام پر بتیس سے اڑتیس روپے کا ہوگیا۔

اس کے علاوہ دال مونگ پچپن روپے سے بڑھ کر پچاسی روپے، دال مسور اٹھاسی روپے سے ایک سو دس روپے، دال ماش ایک سو ستائیس روپے سے ایک سو اڑتیس روپے، چینی بیالیس روپے سے ساٹھ روپے، سولہ کلو گرام گھی کا کنستر ایک ہزار چار سو بیس روپے سے ایک ہزار آٹھ سو بیس روپے، خورنی تیل ایک ہزار چھ سو پچاس روپے سے ایک ہزار آٹھ سو بیس روپے، دودھ بیالیس روپے سے اڑتالیس روپے، دہی ساٹھ روپے سے چونسٹھ روپے، بکرے کا گوشت تین سو روپے سے تین سو ساٹھ روپے، بچھیا کا بغیر ہڈی گوشت دو سو چالیس روپے سے دو سو اسی روپے، اور سرخ مرچ کی قیمت ایک سو بیس روپے سے بڑھ کر ایک سو اسی روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی۔