محنت کشوں کی محنت کے نتیجہ میں ملکی معیشت کا پہیہ گھومتا ہے ،کسانوں کو کپاس ، گنے ، چاول و دیگر اجناس کی مناسب قیمت ادا نہیں کی جاتی، غنویٰ بھٹو

کسان اس بات پر مجبور کر دیئے گئے ہیں کہ احتجاج کریں ،اپنے جائز مطالبات تسلیم کروانے کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں، چیئرپرسن پیپلز پارٹی شہید بھٹو

پیر اگست 22:22

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24 اگست۔2015ء) پاکستان پیپلز پارٹی (شہیدبھٹو) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے پنجاب کے کسانوں کے تمام جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محنت کشوں کی محنت کے نتیجہ میں ملکی معیشت کا پیہ گھومتا ہے لیکن کسانوں کو کپاس ، گنے ، چاول اور دیگر اجناس کی مناسب قیمت ادا نہیں کی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں اور وہ اس بات پر مجبور کر دیئے گئے ہیں کہ احتجاج کریں اور اپنے جائز مطالبات تسلیم کروانے کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں ۔

سترکلفٹن سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں محترمہ غنویٰ بھٹونے کہاکہ ملک میں دولت ، ملکیت اور زرعی زمین رکھنے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے اور دن بدن امیر امیر اور غریب غریب ہوتا جارہاہے لیکن ہمارے ایوانوں میں کاشتکاروں اور مزدوروں کی حقیقی نمائندگی موجود نہیں تمام نمائندے امیر طبقات کے نمائندہ ہیں اور ان کی ملکیت کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں اس وقت ملک میں بیشتر کارخانے حکمران اشرافیہ کی ملکیت ہیں اس لئے کاشتکاروں کو ان کے فصل کے مناسب دام نہیں مل سکتے․ محترمہ غنویٰ بھٹونے مزید کہا کہ ملک میں موجود تمام محنت کشوں کے مسائل اس وقت تک ختم نہیں ہونگے جب تک نجی ملکیت کی حد مقرر نہیں کی جاتی اور ملکی وسائل اور دولت کی مساویانہ تقسیم کرتے ہوئے عوام کو سماجی و معاشی طور پر یکساں مواقع فراہم نہیں کئے جاتے اس کے لئے نہ صرف فصل کی نامناسب قیمت بلکہ ملک میں حقیقی زرعی اور مزدوراصلاحات کے نفاذاور نجی ملکیت رکھنے کی حدود مقرر کرنے کیلئے پنجاب سمیت پورے ملک کے محنت کشوں کو منظم احتجاجی تحریک چلانا ہوگی اور پاکستان پیپلز پارٹی (شہیدبھٹو )کی قیادت اور کارکنان مذکورہ کسان تحریک میں اول دستے کا کردار ادا کریں گے ،غنویٰ بھٹو نے کسان اتحاد کی جانب سے لاہور میں ہونے والے احتجاج کی مکمل حمایت کرتے ہوئے حکومت پنجاب پر زور دیاہے کہ وہ کسانوں کو زرعی اجناس کا مناسب دام فراہم کرنے کے عمل کو یقینی بنائے اور کسانوں کے فلاح و بہبود کیلئے حکمت عملی ترتیب دے جس کی بناء وہ خوش حال زندگی گذار سکیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments