ناروے میں 77افرادکے قاتل نے ریاست کے خلاف مقدمہ کردیا

جیل میں عبوری عدالت قائم،مقدمے کی سماعت کل ہوگی،انسانی حقوق پامالی کیے گئے،مجرم آندرس بریوک کا دعویٰ

اتوار مارچ 14:44

اوسلو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء) ناروے میں 77افرادکو قتل کرنے والے آندرس بریوک نے انسانی حقوق کی پامالی پر مقدمہ دائر کردیا،میڈیارپورٹس کے مطابق اس مجرم نے، جس کا پورا نام آندرس بیہرنگ بریوک ہے، 2011 میں ایک بم دھماکے اور پھر خود کار ہتھیاروں سے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ میں 77 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ لیکن اب اس نے خود ایک مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ناروے کی ریاست اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔

اس نئے مقدمے کے بارے میں معلومات سامنے آنے سے پہلے تک صورت حال یہ تھی کہ ناروے میں بریوک کا پچھلے چار برسوں کے دوران عوامی سطح پر شاید ہی کبھی کوئی تفصیلی ذکر ہوا ہو۔ غیر ملکیوں اور تارکین وطن سے شدید نفرت کرنے والا ناروے کا یہ شہری اپنے ملک کا سب سے بدنام اجتماعی قاتل ہے، جس نے اپنی جنونی سوچ کی وجہ سے چند ہی گھنٹوں میں 77 افراد کی جان لے لی تھی۔

(جاری ہے)

اب لیکن آندرس بریوک نے اوسلو حکومت کے خلاف یہ کہتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے کہ اسے جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو ایک غیر انسانی رویہ ہے۔ اس مقدمے کی سماعت منگل 15 مارچ کو شروع ہو کر چار دن تک جاری رہے گی۔ سماعت کے لیے ایک عبوری عدالت ناروے کی سکین جیل میں قائم کی گئی ہے، جہاں یہ مجرم اپنی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک فٹنس روم کو عارضی طور پر کمرہ عدالت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :