سعودی عرب ،آئی ٹی کا کاروبار سعودی شہر یو ں کے حوالے کر نے کا فیصلہ

ایک لاکھ سے ز ائد پا کستا نیو ں کے بے روز گا ر ہو نے کا امکا ن

اتوار مارچ 15:39

سعودی عرب ،آئی ٹی کا کاروبار سعودی شہر یو ں کے حوالے کر نے کا فیصلہ

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء) سعودی عرب کی وزارت محنت نے ملک بھر میں کمپیوٹر ، لیب اور موبائل فون کی خریدو فروخت اور مرمت کے علاوہ آئی ٹی کا کاروبار سعودی عرب کے رہائشی شہریت رکھنے والے مرد و خواتین کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کام چھ ماہ میں مکمل کیا جائے گا ۔ آن لائن کے مطابق سعودی عرب کے اس نئے احکامات کی روشنی میں پاکستان سے سعودی عرب میں موبائل اور آئی ٹی کا کاروبار کرنے والے ایک لاکھ سے زائد افراد نہ صرف بیروزگار ہو ں گے بلکہ انہیں واپس اپنے ملک پاکستان میں آنا پڑے گا جس سے ملک میں بیروزگاری میں مزید اضافہ ہو گا ۔

آن لائن کو ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کے وزیر محنت ڈاکٹر مفرج بن سعاد الحقبانی نے حکومت کی طرف سے کئے گئے فیصلے کے مطابق جو متن جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں موبائل فون کی خرید و فروخت اور کمپیوٹر کے شعبہ کو سعودی عرب کے مرد و خواتین شہریوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے اعلامیہ کے مطابق کہا گیا ہے کہ یکم جمادی الثانی ( اپریل سے ) چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے اور اس سلسلہ میں متعلقہ سہولت کاروں جن کی اکثریت پاکستانی ہے کو پابند کیا گیا ہے کہ تین ماہ کے اندر یکم رمضان سے موبائل کی فروخت اور مرمت کے شعبہ میں کم از کم پچاس فیصد سعودی شہریوں کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے اور پھر یکم ذالحج سے اس کی شرح سو فیصد تک پہنچا دی جائے اور اس سلسلے میں سعودی وزارت محنت نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلہ کا مقصد سعودی عرب میں کام کرنے کے خواہشمند سعودی شہری جن میں مرد و خواتین شامل ہیں کو کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہیں ۔

اس طرح سعودی شہریوں کو نہ صرف ملازمت حاصل ہو گی اور ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا ۔ وزارت محنت نے مزید احکامات میں کہا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام ملک کی سیکورٹی ، سماجی اور اقتصادی اہمیت کے پیش نظر اس شعبہ کو برقرار رکھنے میں اپنے شہریوں کی خدمات حاصل کرنا ہے اور اس سلسلہ میں سعودی حکومت نے اس تکنیکی شعبہ میں تربیت کے لئے قائم کئے گئے قومی ادارے ( آئی ٹی ) اعلی درجے کے تربیتی پروگرام مرتب کر لئے ہیں جو صارفین کی خدمت اور موبائل فون کی خرید و فروخت اور مرمت کے لئے مخصوص ہوں گے ۔

اور اس سلسلہ میں سعودی حکومت بھی اپنے شہریوں کی بھرپور مالی معاونت کرے گی۔ آن لائن کو ذرائع نے بتایا کہ اس فیصلہ کی روشنی میں پاکستان سے سعودی عرب میں کمپیوٹر ، موبائل اور آئی ٹی کا کام کرنے والے ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد جو سعودی عرب کے مختلف شہروں ریاض ، مکہ ، مدینہ ، طائف ، دمام ، تبوک اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں موجود ہیں اور وہاں سے کام کر کے پاکستان میں اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے اہلخانہ کو بھیجتے تھے سعودی حکومت کے حالیہ فیصلے کی وجہ سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ وہ آئندہ کے مستقبل کے لئے بھی سوچ و بچار میں پڑھ گئے ہیں ۔

سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی حکومت سے اپنے اثرو رسوخ کے ذریعے اس فیصلے پر نظرثانی کروائیں تاکہ لاکھوں پاکستانی بے روزگاری سے بچ سکیں اور ملک میں زرمبادلہ بجھواتے ہیں اس میں بھی کمی نہ ہو سکے ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments