وفاقی حکومت نے جرائم پر قابو پانے کیلئے سزائوں میں اضافے کا نیا مسودہ تیار کرلیا

ناقص تفتیش میں قصور وار ثابت ہونے پر پولیس افسر کو 7سال سزا دینے کی تجویز ،جھوٹے مقدمات درج کرنیوالوں کی سزائیں بھی بڑھانے کی تجویز چوری کی سزا 3 سال سے بڑھا کر 5 سال ،فراڈ زیر دفعہ 420 کی سزا 7سال سے بڑھا کر 10سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے ‘ نجی ٹی وی پولیس رولز 2002ء کے سیکشن156 کے تحت ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر پولیس اہلکاروں کو سزائیں دی جاتی ہیں‘ پولیس حکام کا ناقص تفتیش پر سزا کی تجویز پر تحفظات کا اظہار

منگل دسمبر 14:57

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 دسمبر2016ء) وفاقی حکومت نے بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لئے سزائوں میں اضافے کا نیا مسودہ تیار کرلیا، ناقص تفتیش میں قصور وار ثابت ہونے پر پولیس افسر کو 7سال ،جھوٹے مقدمات درج کرنے والوں کی سزا5 سے 7 سال کرنے، چوری کی سزا 3 سال سے بڑھا کر 5 سال اور فراڈ زیر دفعہ 420 کی سزا 7سال سے بڑھا کر 10سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی حکومت نے قانون سازی کے لئے 21 ویں ترمیم کی روشنی میں نیا مسودہ تیار کرلیا ہے جس میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کیلئے سزائوں میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے تیار کردہ مسودہ میں کئی جرائم کو تعزیرات پاکستان میں شامل اور بعض جرائم کی سزائیں بڑھانے اور پولیس کی ناقص تفتیش کو قابل جرم سزا دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

(جاری ہے)

نئے مسودہ میں ناقص تفتیش کے مرتکب پولیس افسر کیخلاف زیر دفعہ 344اے کے تحت مقدمہ درج کرنے اور ناقص تفتیش میں قصور وار ثابت ہونے پر پولیس افسر کو 7سال سزا دینے کی تجویز دی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس تجویز کے حوالے سے پولیس حکام نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس رولز 2002ء کے سیکشن156 کے تحت پہلے ہی ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر پولیس اہلکاروں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔

نئے مسودہ میں جھوٹے مقدمات درج کرنے والوں کے خلاف سزا 5 سے 7 سال کرنے، چوری کی سزا 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کرنے اور فراڈ زیر دفعہ 420 کی سزا 7سال سے بڑھا کر 10سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جعلی دستاویزات کے جرم 468 کی سزا 7 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔چیک بونس کے مقدمے سے قبل متعلقہ شخص کو 10روز کا نوٹس دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ مسودے کو چاروں صوبوںکے متعلقہ محکموں کے افسران کو بھجوایا گیا ہے جن کی سفارشات کی روشنی میں اس مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

متعلقہ عنوان :