قائداعظم کی زندگی ہمیں فکروعمل کی یکجائی کا پیغام دیتی ہے،صدر مملکت

منگل دسمبر 16:22

قائداعظم  کی زندگی ہمیں فکروعمل کی یکجائی کا پیغام دیتی ہے،صدر مملکت
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 دسمبر2016ء) صدر مملکت ممنو ن حسین نے کہا ہے کہ فکر قائداعظم کی زندگی ہمیں فکروعمل کی یکجائی کا پیغام دیتی ہے اورعزت نفس اور نظریاتی اساس پرثابت قدمی پر جمے رہنے سے انھیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز بنا دیا ہے۔ قائداعظم کے ان افکار کی ہمیں آج بھی اٴْتنی ہی ضرورت ہے جتنی پاکستان بنتے وقت تھی۔ وہ ایوان صدر میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام قائداعظم سیمینار سے خطاب کررہے تھے جس میں وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت انجینئر محمد بلیغ الرحمان، ڈاکٹر مختار احمد، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، وفاقی وزرا، مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، طلبا و طالبات اور دیگر معززمہمانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ایک طویل سفر کے بعد پاکستان کے دروازے پر روشن مستقبل دستک دے رہا ہے جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر قسم کی مصلحتوں اور شکوک و شبہات کو بالائے طاق رکھ کر قوم کا ہر فرد، خاص طور پر نوجوان سرگرم عمل ہو جائیں تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دیگر تمام قسم کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہمیں مسائل کی کثرت سے گھبرا کر کبھی اپنا راستہ نہیں بدلنا چاہییبلکہ یکسوئی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن رہنا چاہیے۔

صدر مملکت نے کہا کہ کسی سیاسی قائد کے کردار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ امانت کی حفاظت کرتے ہوئے خود پر کیے جانے والے اعتماد پر بہر صورت پورا اترے۔ قائد اعظم کی یہی خوبی تھی جس کے سبب ان کے مخالفین بھی تسلیم کرنے پر مجبور تھے کہ وہ ہمیشہ درست بات کہتے ہیں اور بڑے سے بڑے فائدے کے لیے بھی اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔صدر مملکت نے کہا کہ ماضی کے بعض ادوار میں قومی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیاجس کے سبب ملک معاشی ناہمواری بیروزگاری ، محدود قومی وسائل اورعوام میں بے چینی پیدا ہوئی جس کے اثرات بیشتر طبقات میں نظر آتے ہیں۔

اب ہمیں ہمیں ان مسائل کو شکست دے کر قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر جینا ہے تو ہمیں اپنے بزرگوں اور قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار سے روشنی حاصل کرنی ہو گی جن کی قیادت نے اس وطن کا حصول ممکن بنایا۔صدر مملکت نے کہا کہ ہمارا معاشرہ عمومی طور پر اخلاقی بحران کاشکار ہے۔ لوگوں نے اجتماعی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے انفرادی طرزِعمل اپنا رکھا ہے۔

ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اجتماعی سوچ اپنائی جائے اور یکجائی کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔قائداعظم نے ہمیشہ قومی دولت کو امانت سمجھ کر خرچ کیا۔ اگر یہ لائحہ عمل آج حکومتی ادارے اور ہم سب اپنا لیں تو ہمارے بہت سارے مسائل حل خود بخودہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ بننے والوں کو بے نقاب کیا جائے کیونکہ یہ ملکی ترقی کے ہی نہیں بلکہ ہمارے دشمن ہیں۔

تمام سیاسی قائدین سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل اور پاکستان کی ترقی کی طرف توجہ دیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ نوجوان ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ پاکستان اور اس کے مستقبل کے بارے میں اندرونی اور بیرونی سطح پر کیے جانے والے پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر ملک و قوم کی ترقی اور سربلندی کے لیے پوری محنت سے تعلیم کا حصول جاری رکھیں۔ میرا ایمان ہے کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے اور ہمارے بچے قائداعظم کی اس امانت کی پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ حفاظت کریں گے اور اسے بابائے قوم کے خوابوں کی تعبیر بنانے کے لیے اپنی تمام ترصلاحیتوں کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔

متعلقہ عنوان :