انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرینگے ،

ہمارے ذہن میں کسی کی طاقت کو کم ،کسی کو گرانے کا کوئی منصوبہ یا سوچ موجود نہیں ‘ سعد رفیق

ہفتہ فروری 15:38

انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرینگے ،
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 فروری2018ء) وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ انشا اللہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت حاصل کرے گی لیکن ہمارے ذہن میں کسی کی طاقت کو کم کرنے ، گرانے یا جنگ کرنے کو کوئی منصوبہ یا سوچ موجود نہیں ،ہمارا سنگل لائن مطالبہ ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی و قانونی حدود میں رہ کر کام کریں اور ایک دوسرے کا باہمی احترام ہونا چاہیے اور اسی سے پاکستان آگے بڑھے گا ،نواز شریف کو آج سے نہیں بلکہ 1990ء سے مائنس کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن وہ توکل کرنے والے بندے ہیں اور اللہ کا فضل شامل حال ہے او روہ مائنس نہیںہوئے ۔

جاتی امراء کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے میڈیا کے حوالے سے بات کر دی ہے اب میڈیا کو اپنے بارے میں جائزہ لینا چاہیے اور وہ لوگ جو معاملات کو تیز کرنے میں لگے ہوئے ہیں وہ اپنے کردار کا جائزہ لیں ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ جس طرہ دیگر اداروں کا احترام لازم ہے اسی طرح پارلیمنٹ کابھی احترام بھی لازم ہے ۔

اور ہم باہمی احترام سے ہی آگے بڑھیں گے ۔ اگر اپنی حدود سے تجاوز کیا گیا تو اس سے ریاست کو نقصان ہوگا ۔ سبب کو اپنی حدود کو کراس نہیں کرنا چاہے بلکہ سمجھ جانا چاہیے اور ایسے اقدامات ہونے چاہئیں جس سے درجہ حرارت نیچے آئے ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف سپریم لیڈر اور وہی پارٹی کے سربراہ ہوں گے ، انہی کا ووٹ بینک ہے ۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف کو مائنس کرنے کیکوشش پہلی بار نہیں ہو رہی بلکہ 1990ء سے یہ کوششیں چلی آرہی ہیں اور آج 2018آ گیا ہے ۔

اٹھائیس سالوں سے اللہ کا فضل شامل حال رہا ہے او روہ اللہ پر توکل کرنے والے بندے ہیں اور مائنس نہیں ہوئے ۔ کسی سیاستدان کو جبر ،پراپیگنڈے ،جھوٹ حتیٰ کہ فتویٰ لگا کر بھی سیاست سے آئوٹ نہیں کیا جا سکتا ایسے آئوٹ کرنے کی کوشش ہو گی تو اس سے سیاستدان آئوٹ نہیں ہوگا بلکہ مضبوط ہوگا ۔چکوال ، لودھراںکے ضمنی انتخاب کے نتائج اس کے غماز ہیں۔

اگر کسی سیاستدان کو ہٹانا ہے تو اسے غلطی کرنے کا موقع دیں لیکن ٹانگیں کھینچنے سے کوئی نہیں گرے گا ۔ 2018ء میں انتخابات ہوں گے اور فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام کسے مینڈیٹ دیتے اور کسے نہیں دیتے اور جمہوری قوتوں کوکتنی طاقت ملتی ہے ۔ عوام ساری صورتحال کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔انہوںنے نوازشریف کو پارٹی صدارت سے ہٹائے جانے کی صورت میں ترامیم بارے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جو ابھی ہمارے پاس نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ انشا اللہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت لے گی لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں ہم کسی کی طاقت کو کم کرنا چاہتے ہیں اور نہ کسی کو گرانا چاہتے ہیں ، ہمارے ذہن میں جنگ یا ایسے کوئی منصوبہ یا سوچ موجود نہیں ۔ مقبول قیادت سے ایسے ہی ڈرایاجاتا ہے ۔ ہمارا سنگل لائن میں ایک ہی مطالبہ ہے کہ تمام ادارے اپنی آئینی و قانونی حدود میں رہیں او ر ایک دوسرے کا احترام کریں اسکے ذریعے پاکستان نے آگے بڑھنا ہے ۔

انہوںنے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پنجا ب میں کوئی اپ سیٹ ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے غیر رسمی مشاورتی اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ اجلاس میں بلوچستان میں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی اطلاعات کا نوٹس لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ بہت جلد مرکز اور صوبوںکے لئے پارلیمانی بورڈز تشکیل دیدے گی۔

متعلقہ عنوان :