وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس

پنجاب کابینہ کے اجلاس میں ایل ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل اورچیف ایگزیکٹو آفیسر قائد اعظم تھرمل پاور لمیٹڈ احد چیمہ کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار احد چیمہ کی گرفتاری بلاجوازاورغیر قانونی ہے، نیب نے اس ضمن میں اختیارات کاناجائز استعمال کیا ہی:پنجاب کابینہ پنجاب حکومت وفاقی حکومت سے مطالبہ کریگی کہ وہ اس ضمن میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے‘ اجلاس میں اس مسئلے کو پنجاب اسمبلی میں بحث کیلئے پیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ، احد خان چیمہ اور انکے اہلخانہ کو ہر ممکن اخلاقی اور قانونی مدد مہیا کی جائیگی

جمعہ فروری 23:07

وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس
لاہور۔23 فروری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 فروری2018ء) آج لاہور میں منعقد ہونے والے پنجاب کابینہ کے اجلاس نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل اورچیف ایگزیکٹو آفیسر قائد اعظم تھرمل پاور لمیٹڈ احد چیمہ کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیاہے اور کہا ہے کہ یہ گرفتاری بلا جواز اور غیر قانونی ہے اور نیب نے اس ضمن میں اختیارات کا نا جائز استعمال کیا ہے۔

وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی صدارت میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اراکین نے اس امر کا اظہار کیا کہ احد خان چیمہ پنجاب حکومت کے فرض شناس، محنتی اور دیانت دار افسر ہیں اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتاری اور شفافیت کے ساتھ تیاری اور تکمیل میں ایک دنیا ان کی معترف ہے۔

(جاری ہے)

حکومت نے عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کے لیئے جو تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان میں احد چیمہ کا نمایاں کردار خاص طور پر مسلمہ ہے۔

کابینہ نے اس امر پر گہری تشویس کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے بیوروکریسی میں خوف وہراس کی فضا قائم کر کے عوامی فلاح و بہبود کے ان منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پنجاب حکومت کا طرہ امتیاز ہیں۔ کابینہ کے اراکین نے کہا کہ وہ احد چیمہ کی گرفتاری سمیت ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ناانصافی اور امتیازی سلوک کا نشانہ بننے والے افسران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کابینہ کے اجلاس میں توانائی سمیت عوامی فلاح و بہبود میں احد چیمہ کی خدمات کو متفقہ طور پر سراہا گیا۔ کابینہ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ا یسے مقدمات میں پہلے انکوائری کی جاتی ہے اس کے بعد تفتیش کا عمل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ریفر نس دائر کیا جاتا ہے اور بعد میںاحتساب عدالت کی طرف سے فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس مقدمے کے پہلے مرحلے پر جبکہ انکوائری کا عمل شروع ہوا ہے اور نیب کی طرف سے صرف الزامات لگائے گئے ہیں آخری تین مراحل تک پہنچے بغیر احد چیمہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بنا بریں کابینہ کے نزدیک احد چیمہ کی گرفتاری کا عمل بلا شک و شبہ امتیازی اور جانب دارانہ سلوک کا مظہر ہے۔کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت پنجاب،، نیب کی طرف سے احد چیمہ کی غیر قانونی گرفتاری کے مسئلے پر فی الفور وفاقی حکومت سے رجوع کریگی اور مطالبہ کرے گی کہ وہ اس ضمن میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ اجلاس میں اس مسئلے کو پنجاب اسمبلی میں بحث کے لئے پیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔۔پنجاب کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ احد خان چیمہ اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن اخلاقی اور قانونی مدد مہیا کی جائے گی، اجلاس نے اس ضمن میں کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا۔