مشرق وسطیٰ میں امن کے بغیر مسئلہ فلسطین کا حل ناممکن ہے، ولادیمیر پیوٹن

پیر اپریل 11:00

ماسکو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے بغیر مسئلہ فلسطین کا حل ناممکن ہے۔روس کے نشریاتی ادارے کے مطابق کریملن سے جاری کردہ بیان میں صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ شام اور عراق میں دہشت گرد تنظیم داعش کی شکست کے بعد علاقے میں سیاسی حل اور تعمیر نو کے مرحلوں میں ہم عرب لیگ کی مدد کر سکتے ہیں۔

سعرودی عرب میں ہونے والے 26 ویں دفاعی و خارجہ پالیسی اجلاس کے حوالے سے انھوں نے کہا ہے کہ اجلاس کے ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے ، صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ شام، عراق، لیبیا اور یمن میں مسلح جھڑپیں خونریزی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ ان مشکلات نے بین الاقوامی برادری کی باہم منّظم اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت میں اور عرب لیگ جیسی کثیر الجہتی ساختوں سے توقعات میں اضافہ کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا ہے کہ داعش کی مرکزی طاقتوں کی شکست کے بعد کے حالات میں اور شام اور عراق میں سیاسی حل اور تعمیر نو کے مراحل میں باہم مل کر تیزی پیدا کی جا سکتی ہے۔ علاقے کے کلیدی مسائل کے حل میں ہم مدد کر سکتے ہیں۔ عرب ممالک کی خود مختاری اور زمینی سالمیت کے لئے مکمل احترام کے ساتھ دہشت گرد گروپوں کے خلاف جدوجہد کے دوام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے روسی صدر نے کہا ہے کہ "جب تک مشرق وسطیٰ میں طویل المدت دورانیے کے لئے حالات معمول پر نہیں آ جاتے مسئلہ فلسطین کا حل ہونا ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کا موقف تبدیل نہیں ہو سکتا۔ روس، مسئلہ بیت المقدس سمیت فلسطینی زمین سے متعلق تمام مسائل کے فلسطین۔۔اسرائیل براہِ راست مذاکرات، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں سمیت عالمگیر قوانین کے اصولوں کی بنیاد پر عرب لیگ کے امن اقدامات کے ذریعے حل ہونے کے حق میں ہے۔

متعلقہ عنوان :