طیبہ تشدد کیس :سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفرکو ایک ایک سال قید اور50،50ہزار جرمانے کی سزا سنا دی گئی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل اپریل 11:12

طیبہ تشدد کیس :سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 اپریل۔2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفرکو ایک ایک سال قید اور50،50ہزار جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی بیگم ماہین ظفرکو ایک ایک سال قید اور50،50ہزار جرمانے کی سزا سنا دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کیس کا فیصلہ سنایا۔یاد رہے کہ حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 27مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے ملزمہ ماہین ظفر اور راجہ خرم علی خان کو بھی طلب کررکھا ہے۔اسلام آباد میں گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016میں سامنے آیا۔

پولیس نے 29 دسمبر کو سابق جج راجہ خرم علی خان کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لے کر کارروائی شروع کی۔

دونوں ملزمان کیخلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا۔3 جنوری 2017کو طیبہ کے والدین نے راجہ خرم اور اسکی اہلیہ کو معاف کردیا۔راضی نامے کی خبریں سامنے آنے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا۔سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے 8جنوری 2017 کو طیبہ کو بازیاب کراکے پیش کیا۔عدالتی حکم پر 12جنوری 2017کو راجہ خرم علی خان کو کام سے روک دیا گیا۔

چیف جسٹس نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوایا۔10 فروری کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف علی نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی توثیق کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔گواہوں میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افرادشامل تھے۔

Your Thoughts and Comments