امریکا، سابق خاتون اول باربرا بش کا 92 سال کی عمر میں انتقال

بدھ اپریل 10:40

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) امریکا کی سابق خاتون اول اور خواندگی کی مہم چلانے والی اہم شخصیت باربرا بش 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ان کا تعلق دو امریکی صدور سے رہا۔ وہ جارج ایچ ڈبلیو بش کی اہلیہ اور جارج ڈبلیو بش کی والدہ تھیں۔ان کے بیٹے جارج ڈبلیو بش نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ان کی پیاری والدہ کا 92 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔

لورا، باربرا، جینا اور ہم اداس ہیں تاہم ہماری روح کو سکون ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی روح کو سکون مل گیا ہے۔ باربرا بش لاکھوں لوگوں کی زندگی میں ہنسی خوشی، محبت اور خواندگی کا سبب بنیں۔سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا کہ ان کی ماں انھیں بہت مشغول رکھتی تھیں اور آخری وقت تک ہنساتی رہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے مزید کہا کہ میں خوش قسمت شخص ہوں کہ باربرا میری ماں تھیں۔

ہمارا کنبہ انھیں بہت یاد کرے گا اور ہم آپ تمام لوگوں کی نیک خواہشات اور دعاؤں کے لئے شکر گزار ہیں۔ان کی صحت ایک عرصے سے خراب تھی اور انھوں نے حال میں علاج کرانے سے انکار کر دیا تھا۔ان کے خاوند کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں انھیں خاندان میں خواندگی کی انتھک محرک' کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مسز بش کو ملک اور فیملی کے ساتھ سچی لگن کے لئے ہمیشہ تک یاد کیا جائے گا اور انھوں نے دونوں کی وفاداری کے ساتھ خدمت کی۔

سابق صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما نے انھیں خاندان کی چٹان سے تعبیر کیا جو کہ عوام کی خدمت کے لئے وقف تھی۔ انھیں انکساری اور شائستگی کی مثال بھی کہا۔ سابق صدر بل کلنٹن نے کہا کہ مسز بش اپنے خاندان اور دوست، اپنے ملک اور اپنے کاز کے لئے لڑنے والی خاتون تھیں۔