ملک بھر کی طرح لاہور میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی 80ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی

ہفتہ اپریل 19:33

لاہور۔21 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2018ء) ملک بھر کی طرح صوبائی دارلحکومت لاہور میںشاعر مشرق، حکیم الامت، مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ کی 80ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی،اس موقع پر مختلف مقامات پرخصوصی تقریبات، تقریری مقابلوں ، سیمینارز، مذاکروں ، مباحثوں، مشاعروں اور دیگر پروگرام منعقد کئے گئے جن میں حکیم الامت کی تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ سمیت ملک و قوم کیلئے خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی جبکہ نوجوان نسل کو مفکر پاکستان کے نظریات وافکار اور ان کی سوچ و فلسفہ سے آگاہ کرنے کیلئے خصوصی ڈاکومینٹریز بھی پیش کی گئیں، اس موقع پر مساجد میں قرآن خوانی کا انعقاد بھی کیا گیا اور وطن عزیز کی سلامتی، عوامی فلاح ، قومی خوشحالی ، پاکستان کی تعمیر و ترقی ، دہشت گردی و بد امنی کے خاتمہ ، اسلام کی سربلندی ، آئین و قانون کی بالا دستی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، اتحاد بین المسلمین کے فروغ ، غربت ، بے روز گاری ، مہنگائی،، قدرتی آفات سے نجات کی خصوصی دعا ئیں کی گئیں،مذکورہ دن کی مناسبت سے ٹی وی چینلز کی طرف سے خصوصی پروگرامات نشر کئے گئے ،صوبائی دارلحکومت لاہور میں ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں اس موقع پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا،جس سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ مسلمانان برصغیر کے ایک عظیم محسن ہیں، انہوں نے مسلمانوں کو غیر اسلامی نظریات سے مرعوب نہ ہونے اور اپنے دین‘ ثقافت اور اقدار سے گہری وابستگی کے ذریعے نشأة ثانیہ کی راہ دکھائی۔

(جاری ہے)

علامہ محمد اقبالؒ نے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی اور انہیں خودی کادرس دیا ۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو فکرِ اقبالؒ سے روشناس کرایا جائے جس کی بنیاد قرآنی تعلیمات اور اسوہٴ حسنہ پر ہے۔ موجودہ حالات سے نبردآزما ہونے کے ضمن میں افکارِ اقبالؒ ہماری موثر رہنمائی کرتے ہیں۔چیف جسٹس((ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کے الگ وطن کے تصور کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عملی تعبیر دی۔

علامہ محمد اقبالؒ راست گو شاعر تھے اور دین اسلام کا ان پر غلبہ تھا۔وہ امت مسلمہ کو بے راہ روہ کی طرف جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ 1940ء میں قرارداد پاکستان کی منظوری کے ذریعے جس الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا اس کا تصور علامہ اقبالؒ نی1930ء میں پیش کر دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ نے نوجوان نسل کو جہد مسلسل کا پیغام دیا ۔وہ پرعزم انسان تھے اور انہیں یقین تھا کہ مسلمانان برصغیر کو آزادی کی منزل ضرور ملے گی ۔سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ صحیح معنوں میں آفاقی مفکر اور شاعر ہیں، آفاقی شاعر کی باتیں ہر زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں، علامہ محمد اقبالؒ کا کلام ابدی ہے اور آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔

صاحبزادہ سلطان احمد علی نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کا ہر شعر نوجوانوں کیلئے ہے اور انہوں نے نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہہ دی ہے۔ نئی نسل کو اس بات پر فخر کرنا چاہئے کہ اقبالؒ نے انہیں شاہین کہہ کر پکارا۔ولید اقبال ایڈووکیٹ نے کہا 80 برس قبل آج ہی کے دن علامہ محمد اقبالؒ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ علامہ اقبالؒ نے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔

سید اکرم اکرام شاہ نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ عظیم فلسفی شاعر تھے۔ علامہ محمد اقبالؒ لامتناہی شخصیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اور ہندو کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے ہیں۔ قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ میں ذہنی ہم آہنگی تھی۔ یہ ملک بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا اس کی قدر کرنی چاہئے۔

پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے کہاکہ قومیں اپنے تاریخی ورثے اور تہذیب کی بنا پر زندہ رہتی ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ نے ہمیں اپنی تاریخ اور تہذیب پر فخر کرنا سکھایا۔۔ڈاکٹر طاہر رضا بخاری نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کی سوچ اور فکر کا مرکز ومحور قرآن اور صاحب قرآن تھے۔بیگم خالدہ جمیل نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ نے نوجوانوںکو اپنی توجہ کا مرکز بنایا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ کوئی بھی تحریک نوجوانوں کی شرکت اور جوش و جذبے کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔ شاہد رشید نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کے افکارونظریات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔