پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کا مطالبات کی حق میں ہنگو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

پیر اپریل 18:16

ہنگو۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) صوبائی حکومت کی پرائیویٹ سیکٹر کے بارے پالیسی ناقا بل قبول اورظالمانہ ہے صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار کلیدی ہے۔سرکاری افسران اپنے بچوں کو سر کاری سکولوں میں اسلئے داخل نہیں کراتے کیونکہ ان کا ان اداروں پر اعتماد نہیں، سرکاری افسران چھٹیوں کے تنخواہیں وصو ل کر رہے ہیں توہم چھٹیوں کی فیس کیو ں نہیں لے سکتے۔

اپنے حقوق کے لئے صوبائی قیادت کے ساتھ ملکر ہر فورم پر جدوجہد کر ینگے۔ان خیالات کااظہارپرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک( پین) ہنگو کے ضلعی صدر سمیع الدین بنگش،جنر ل سیکٹر ی عامر مدثر آفریدی،اشرف خان،صاحب گل اور کزئی، عقیل شا ہ اور دیگر نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

پرائیویٹ ایجوکشن نیٹ ورک کے رہنماوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے انتہائی مضر اثرات مرتب ہونگے۔

پورے دنیا میں پرائیویٹ سیکٹر کی حکومتیں مدد کرتی ہے۔مگر صوبہ کے پی کے میں حکومت پرائیویٹ سیکٹر کی خدمات کا اعتراف کرنے کی بجائے ان کی دل شکنی کر رہے ہیں۔مقررین نے کہاکہ پین کی صوبائی قیادت کے شانہ بشانہ جائز حقوق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔اگر حکومت کو اتنی ہی پریشانی ہے تو وہ اپنے وسائل سے تین ماہ کی فیسز جمع کرادے ہم بچوں سے فیس نہیں لینگے۔ پین کے رہنماوں نے کہاکہ صوبے میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی صفر ہے۔اور ہر کوئی اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر اعتماد کر تے ہیں۔

متعلقہ عنوان :