صوبہ بھر کی طرح ہنگو میں بھی نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان کا حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج

پیر اپریل 20:17

ہنگو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) صوبہ بھر کی طرح ہنگو میں بھی نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان کا حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج پرائیویٹ تعلیم سکٹر ہی تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کر رہا ہے تمام سرکاری ملازمین اور افسرانوں کے بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں اگر صوبائی حکومت کو اتنی فکر ہے تو خود بچوں کے فیسیں ادا کریں اگر ہم چھٹیوں کی فیس نہ لیں تو کرائے اور تنخواہیں کہاں سے ادا کریں گے اصلاحات کے نام پر نجی تعلیمی اداروں کیلئے کالے قانون کو کبھی نہیں مانے گے اور گر ہمار مطالبات نہیں مانے گئے تو ہم اپنے سکولوں کو مکمل طور پر بند کر دیں گے ان خیالات کا اظہار پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے صدر سمیع الدین عامر مدثر اشر ف خان عاقل شاہ عزیز اللہ صاحب گل نے صوبائی حکومت کے نجی تعلیمی اداروں کی پالیسی کے خلاف ہنگو پریس کلب کے سامنے ضلع بھر کے نجی تعلیمی اداروں کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت ہمارے پائوں کھنچنے کے بجائے ہمارا ساتھ دیں تعلیمی میدان میں ہمارا حوصلہ افزائی کریں کیونکہ تعلیمی میدان میں نجی تعلیمی ادارے اہم کردار ادا کر رہی ہیں اس وجہ سے صوبہ بھر کے افسران سرکاری ملازمین اور اعلی شخصیات کے بچے بہتر تعلیمی معیار کی وجہ سے نجی سکولوں میں بچوں کو پڑھا رہے ہیں انہوںںے کہاکہ ہم نارمل اور روٹین کے مطابق فیس لیتے ہیں مستحقین کو رعایت بھی دی جاتی ہیں ہم مجبورا چھٹیوں کے فیس لیتے ہیں کیونکہ اگر ہم یہ فیس نہ لیں تو کرائے اور تنخواہیں کہاں سے دیں گے اگر صوبائی حکومت کو اتنی فکر ہے تو وہ تعلیمی معیار بہتر کریں اور بچوں کی فیس خود ادا کریں انہوںنے دھمکی دی کہ اگر صوبائی حکومت نے اپنے پالیسی واپس نہیں لیں اور ہمارا مطالبات نہیں مانے تو ہم اپنے سکولوں کو مکمل طور پر بند کر دیں گے مظاہرین نے صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے مظاہرین نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جس پرصوبائی حکومت کی نجی تعلیمی اداروں کیلئے اصلاحات کے نام پر کالے قوانین نا منظور کے نعرے درج تھے

متعلقہ عنوان :