دنیا بھر کی ائیرلائنز مختلف ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے کی مد میں فیس ادا کرتی ہیں

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل اپریل 18:09

دنیا بھر کی ائیرلائنز مختلف ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے کی مد ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 اپریل 2018ء) : ائیرلائن کمپنیز مختلف ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنے کے لیے فیس کی مد میں کچھ رقم کی ادائیگی کرتی ہیں۔ اس فیس کو ''اوور فلائٹ فیس'' (Overflight Fees) کہا جاتا ہے۔ جیسے ہر ملک اپنی سرزمین سے متعلق حق رکھتا ہے اور دو ممالک کے مابین ایک سرحد ہوتی ہے ٹھیک ویسے ہی ہر ملک کی فضائی حدود بھی اسی کی ملکیت ہوتی ہیں۔

بہت سے ممالک اپنی فضائی حدود کو غیر ملکی ائیر لائنز کو ''کرائے'' پر دے دیتے ہیں، جس کے تحت غیر ملکی ائیر لائنز ان کی فضائی حدود میں پرواز کر کے اپنی منزل تک پہنچتی ہیں۔ کچھ ممالک ہوائی کمپنیوں کو ائیر ٹریفک کنٹرول سروسز بھی مہیا کرتے ہیں، ہوائی کمپنیوں کی جانب سے ادا کی جانے والی اوور فلائٹ فیس کا ایک حصہ ان سروسز کو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

اوور فلائٹ فیس کا کوئی طے شدہ معیار نہیں ہے۔

مختلف ممالک فضائی حدود کے استعمال کی فیس کا تعین مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کینیڈا میں اوور فلائٹ فیس کا تعین جہاز کے وزن اور اس کے سفر کے دورانیے پر ہوتا ہے۔ جبکہ امریکہ میں اس فیس کا تعین صرف سفر کے دورانیے پر منحصر ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ ہوائی کمپنیاں بھاری فیسوں سے بچنے کے لیے لمبے رُوٹ کا انتخاب کرتی ہیں۔ فضائی حدود سے جان چھُڑوانا نہایت مشکل ہے کیونکہ بسا اوقات کسی ملک کی فضائی حدود اس ملک کے رقبے سے بھی زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔

امریکہ کی فضائی حدود فلپائن تک پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن سمندر کے اوپر کیا جانے والا ہوائی سفر زمین کے اوپر کیے جانے والے ہوائی سفر کی نسبت سستا ہے۔ اگرچہ سمندر کے اوپر سفر کرنے کے لیے اوور فلائٹ فیس کم ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی ائیرلائن آسٹریلیا سے جاپان تک کا سفر کرتی ہے تو کچھ ائیر لائنز پھر بھی امریکہ کو فضائی حدود استعمال کرنے کی مد میں ادائیگیاں کرتی ہیں۔